مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق



ہر مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہ پسند کرے اور عزیز رکھے جسے اپنے لیے اس نے پسند کیا ہے اور عزیز رکھا ہے اور جسے اپنے لیے پسند نہیں کرتا اسے دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی پسند نہ کرے ۔

مختلف طبقوں، درجوں اور مقاموں سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمانوں میں بھائی چارہ قائم کرنے کی ترغیب مذہب اسلام کی سب سے بڑی اور سب سے اچھی ترغیبوں میں سے ہے چنانچہ آج کے اور پچھلے مسلمانوں کا سب سے زیادہ بے وقعت اور ذلیل کام یہ ہے کہ انہوں نے اس اسلامی بھائی چارے کے تقاضوں کی طرف دھیان نہیں دیا اور اس بارے میں لاپروائی اور غفلت برتی ۔

وجہ یہ ہے کہ اس بھائی چارے کا (جیسا کہ امام جعفر صادق ک کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے اور جسے ہم بیان کریں گے) کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے بھائی کے لیے وہ پسند کرے اور عزیز رکھے جسے اپنے لیے اس نے پسند کیا ہے اور عزیز رکھا ہے اور جسے اپنے لیے پسند نہیں کرتا اسے دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی پسند نہ کرے ۔

اس چھوٹے اور سیدھے سادے سے قاعدے کے بارے میں جو اہلبیت  کے پسندیدہ دستوروں میں سے ہے سوچنا چاہیے اور اس خیال سے سوچنا چاہیے کہ اس قاعدے پر صحیح صحیح عمل کرنا آج کے مسلمانوں کے لیے کتنا مشکل ہے ۔ آج کے مسلمان واقعی اس قاعدے سے کتنے دور ہیں اور اگر واقعی یہ لوگ انصاف سے کام لیتے اور اپنے مذہب کو ٹھیک ٹھیک پہچان لیتے اور صرف اسی قاعدے پر عمل کرتے تو کبھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کرتے اور ان میں زیادتی، چوری، جھوٹ، بدگوئی ، چغلی ، الزام ، گستاخی ، تہمت لگانا، توہین کرنا اور خود غرضی وغیرہ کے عیوب ہرگز نہ ہوتے ۔

بے شک اگر مسلمان آپس میں بھائی چارے کی کم سے کم خوبی کو سمجھ کر ہی عمل کرتے تو ان میں ظلم اور دشمنی باقی نہ رہتی اور انسان حد درجہ خوشی اور اجتماعی خوش بختی کے اونچے اونچے مرحلوں کی فتح کے ساتھ ساتھ بھائیوں کی طرح اپنی زندگی گزارتے ۔

انسانیت کی دنیا میں وہ ""مثالی بعاشرہ"" جس کا قیام پچھلے فلسفیوں سے رہ گیا تھا یقینی طور پر وجود میں آجاتا، اس صورت میں لوگوں میں دوستی اور محبت کی حکمرانی ہوتی حکومتوں ، عدالتوں ، پولیس ، جیل تعزیری قوانین اور سزا اور قصاص کے احکام کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی، اگر وہ سامراجیوں اور جابر حکمرانوں کے سامنے سر نہ جھکاتے اور باغی خود سروں کے دھوکے میں نہ آتے تو آخر کار پوری زمین بہشت کا بدل ہوجاتی اور خوش بختی کے گھر کی طرح بن جاتی ۔

میں اس جگہ یہ مزید کہتا ہوں : اگر محبت اور بھائی چارے کا قانون جیسا کہ اسلام نے چاہا ہے انسانوں میں حکمرانی کرتا تو ہمارے مکتب کی لغت سے عدالت کا لفظ ہی نکل جاتا ۔ یعنی ایسی صورت میں ہمیں عدل کی ضرورت ہی نہ پڑتی جو ہم لفظ عدل سے کام لینے کی حاجت رکھتے بلکہ محبت اور بھائی چارے کا قانون ہی نیکیاں پھیلانے ، امن ، خوش بختی اور کامیابی قائم رکھنے کو ہمارے لیے کافی ہوتا ۔

وجہ یہ ہے کہ انسان قانون عدل کی طرف اس وقت جاتا ہے جب سماج میں محبت نہیں ہوتی لیکن جہاں لوگوں میں باپ بیٹے اور بھائی بھائی کی سی محبت راج کرتی ہے، وہاں انسان اپنی خواہشات اور ضروریات چھوڑ بیٹھتا ہے اور محبت کے مقدس حدود کی خود خوشی خوشی حفاظت کرتا ہے آخر کار تمام مشکلیں محبت کے سائے تلے دور ہوجاتی ہیں اور پھر عدالت اور سیاست کی ضرورت نہیں رہتی ۔

اس کا راز اور سبب یہ ہے کہ ہر انسان صرف اپنے آپ سے اور اس چیز سے محبت کرتا ہے جو اسے اچھی لگتی ہے وہ کبھی ایسی چیز سے جو اس کی ہستی سے باہر ہو اس وقت تک محبت نہیں کرتا جب تک وہ اس سے تعلق پیدا نہ کرے ، وہ اسے بھلی نہ لگنے لگے، اسے اس کی ضرورت نہ پڑجائے اور اس سے رغبت نہ ہوجائے ۔



1 2 3 4 5 6 next