دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا



ہوشیار اور عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی تربیت کرے اور مرنے کے بعد والی زندگی کے بارے میں سعی و کوشش کرے اور کمزور و ناتواں وہ ہے جو اپنے نفسانی خواہشات کی اطاعت کرے اور اسی حالت میں خدائے متعال سے اپنی آرزؤں کی درخواست کرے۔

 

ہوشیار اور عاجز انسان کی نظر اور رفتار میں فرق:

          اگر انسان کسی گناہ کا مرتکب ہونے کے بعد اس کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہو تو‘ خداوند تعالیٰ اسے اس خوف و پریشانی کی وجہ سے نجش دیتا ہے۔ ممکن ہے غلط فہمی سے یہ گمان کیا جائے کہ جو بھی گناہ کا مرتکب ہو جائے اس کے بعد تو بہ کرے تو اسے بخش دیا جائے گا‘ اور یہ گمان بذات خود بیشتر لغزش و آلودگی کا سبب ہے‘ کیونکہ گنہگار ہر گناہ کے بعد اس امید میں  رہے گا کہ خدا اسے بخش دے گا۔اس غلط گمان کو رفع کرنے کےلئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: ہوشیار اور عقلمند انسان وہ ہے جو ہمیشہ اپنی عمر سے بہتر استفادہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے کی فکر میں رہتا ہے‘ نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہے اور اپنی نفسانی خواہشات کے مطابق عمل نہیں کرتا ہے تاکہ سر انجام غفلت میں مبتلا نہ ہو جائے:

ہوشیار اور عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی تربیت کرے اور مرنے کے بعد والی زندگی کے بارے میں سعی و کوشش کرے اور کمزور و ناتواں وہ ہے جو اپنے نفسانی خواہشات کی اطاعت کرے اور اسی حالت میں خدائے متعال سے اپنی آرزؤں کی درخواست کرے۔

          انسان عقل و ہوش کا مالک ہے‘ کبھی نفسانی خواہشات پر عقل غلبہ آتی ہے اور کبھی عقل پر نفسانی خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے۔ حدیث کے اس حصہ میں ان دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

          بعض اوقات انسان کا نفس ضعیف ہوتا ہے اور اس کی خواہشات اس کی عقل پر غالب نہیں ہوتی ہے۔ یہ اس عقلمند انسان کے بارے میں ہے کہ جو تہذیب نفس اور اصلاح کی راہ میں گامزن اور مسلسل موت کے بعد والی ابدی زندگی کے بارے میں سوچتا رہتاہے۔ اس کے برعکس کبھی نفس اور اس کی خواہشات عقل پر غالب آتی ہیں اور انسان اپنے نفسانی خواہشات کے مقابلہ میں ناتواں ہوتا ہے اور ان کی مدافعت نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تفسیربحار الانوار کے اس نسخہ کی بنیاد پر ہے کہ جس میں آیا ہے ”من دانہ نفسہ“ یعنی عقلمند وہ ہے جس کا نفس کمزور ہو۔ لیکن دوسرے نسخوں میں ”من ادّب نفسہ“ آیا ہے،شاید دوسری تعبیر بہتر ہو‘ اس صورت میں جملہ کا معنی یوں ہوتا ہے: ہوشیار وہ ہے جس نے اپنے نفس کی اصلاح کی ہو‘ دوسری تعبیر میں وہ اصلاح کرے اور ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات کے لئے موقع فراہم نہ کرے۔ ایسا انسان عقلمندی کے ساتھ سوچ سکتا ہے اور محدود مادی دنیا سے اپنی نظر اٹھا کر بیکراں‘ لامتناہی اور ابدی افق پر نظر ڈال کر تنگ نظری سے بچ سکتا ہے ،وہ اپنے اعمال کو قیامت کے جاویدانی دور کےلئے انجام دیتا ہے۔

          اسلام کے نقطہٴ نظر سے ایسی فکر عاقلانہ اور یہ انسان زیرک ہے‘ کیونکہ وہ ایک مقصد کے بارے میں سوچتا ہے اور دنیا کے محدود عالم کے بجائے آخرت کے ابدی اور لا محدود عالم پر نظر رکھتا ہے، دنیا کی عارضی لذتوں کو آخرت کی ابدی نعمتوں سے موزانہ کر کے عقلمندی کے ساتھ دوسرے مورد کو ترجیح دیتا ہے۔

          تنگ نظر لوگ عارضی اور ناپائدار لذتوں کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں نہیں سوچتے اور انہیں آخرت کی ابدی لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں‘ ایسے لوگ اپنے عقل کی باگ ڈور کو ہوائے نفس کے حوالے کر کے زبوںحالی کے عالم میں اپنے آپ کو شکم و شہوت کا تابع قرار دیتے ہیں‘… ایسے افرادکے بارے میں مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

کم من عقل اسیر عند ھویٰ امیر“  ۱



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 next