دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا(دوسرا حصه)



ذکر کی کمیت و کیفیت:

          قرآن میں بیان کئے گئے منجملہ مسائل میں ذکر کی مقدار و کیفیت ہے ۔قرآن مجید میں بعض آیات ذکر کی کمیت اور اس کی فراوانی پر تاکید کرتی ہیں‘ جیسے آیہٴ:

          <یَا اَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُ وا اللهَ ذِکْراًکَثٖیراً>         (احزاب/۴۱)

          اے ایمان والو! اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کیا کرو۔

          (اس آیت میں ذکر کی زیادتی پر تاکید کی گئی ہے)

          بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک حد معین کی گئی  ہے‘ حتی نماز کے لئے بھی ایک حد معین ہے، ہر مکلف بالغ کے لئے دن رات میں پانچ مرتبہ سترہ رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور واجب نمازوں کے دو برابر نماز نافلہ پڑھنا مستحب ہے‘ یا یہ کہ ہر بالغ مسلمان کےلئے طاقت اور مالی استطاعت کی صورت میں عمر بھر میں ایک بار حج واجب کیا گیا ہے ۔ اس بنا پر ہر چیز کے لئے ایک حد مقرر ہوئی ہے‘ صرف خدائے متعال کی یاد اور اس کے ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے ۔ انسان جس قدر ذکر الٰہی کرے اور خدا کی یاد میںبسر کرے پھر بھی کم ہے ۔

          آیات و روایات کی پہلی قسم کے مقابلہ میں‘ ذکر کی کیفیت کے بارے میں بہت سی  آیات و روایات بیان ہوئی ہیں‘ من جملہ آیہٴ:

<فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فاذْکُرُوا اللهَ کَذِکْرِکُمْ آبَائَکُمْ اَوْ اَشَدُّ ذِکْراً․․․>       (بقرہ/۲۰۰)             

          پھر جب سارے مناسک تمام کر لو تو خدا کو اسی طرح یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی شدید تر․․․

          اس آیت میں ذکر خدا کے بارے میں نہیں فرماتا: ”واکثرذکراً‘ یعنی خدائے متعال کو زیادہ یاد کرو‘ بلکہ فرماتا ہے: خدائے متعال کوزیادہ شدت سے یاد کرو۔ پس یہاں پر ذکر کے کم و زیاد کے بارے میں بیان نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے ضعف و شدت کوبیان کیا گیا ہے ۔ اور یہ لفظی اور زبانی ذکر سے مربوط نہیں ہے ۔ مقصود یہ نہیں ہے کہ مثلاً ”لا الہ الا اللّٰہ “کو غلیظ صورت میں تلفظ کیا جائے بلکہ یہ شدت اور ضعف‘ یاد اور توجہ قلبی سے مربوط ہے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 next