خدا کی نظرمیں قدرو منزلت کا معیار



ممکن ہے بعض افراد تقوی کے بارے میں غلط تصور رکھتے ہوں اور حقیقی تقوی اورظاہر و تصوراتی تقوی کے درمیا ن فرق نہ کرسکیں ، اس لئے اس بحث میں اعمال و رفتا ر کی قدر و قیمت کے معیارپر بحث کی جائے گی ۔

 بہت سے لوگوں کی  عادت ہے کہ وہ افراد کے متعلق ظاہری بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر کوئی زیادہ عبادت کر تا ہے ،ذکر خدا بجالاتا ہے ،قرآن پڑھتا ہے اور نماز کو اول وقت انجام دیتاہے،تو اسے باتقوی  جانتے ہیں ۔یااگرکوئی طہارت کے بعض مسائل کی زیاد ہ رعایت کر تا ہے اسے ایک باتقوی شخص کی حیثیت سے پہنچا نتے ہیں یہ سرسری نتیجہ نکا لنا صحیح نہیں ہے۔قدر وقیمت کے معیا ر کو پہنچاننے کے لئے  علمائے اخلاق نے کام کے اچھے یا برے ہونے اور انسان کی قدر وقیمت کے معیا رکے بارے میں  نظری اور بنیادی بحث کی ہے۔ ہم یہاں پر اس کی طرف اشارہ کریں گے:

ایمان و عمل صالح اور انسان کی بلندی کا معیار

قرآن مجید کی نظر میں انسان کی قدرو قیمت  ایمان اور عمل صالح ہے ، شاید قرآن مجید کے  ایسے کم صفحات ملیں گے جن میں ان دو مسئلوں کاذکر نہ آیا ہو:

<و اما من امن وعمل صالحافلہ جزاء الحسنی وسنقول لہ من امرنا یسرا>(کہف/ ۸۸)

اور جس نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیاہے اس کے لئے بہترین جزا ہے اورمیں بھی اس کے امور کو اسی پر آسان کردوںگا۔

دوسری جگہ فرماتا ہے :

<الا من تاب وٰامن وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنة ولا یظلمون شیئا>(مریم /۶۰)

علاوہ ان کے جنہوں نے توبہ کرلی ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دیاوہ جنت میں داخل ہوگے اور ان پر کسی طرح کاظلم نہیں کیا جائےگا۔

انسان دو مد مقابل اوصاف اور مقام کا مالک ہے :ان میں سے ایک صاحبان تقوی اور صاحبان فضیلت ، یعنی انبیاء، صالحین، اولیاء، صدیقین اور شہداسے مربوط ہے ۔اسی لئے حضرت آدم مسجود ملائکہ قرار پائے اور اسی وجہ سے انسان ایک ایسے مقام پرپہنچا تا ہے،جہاں پراس کے وصف میں کہا گیا ہے:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next