بیداری اسلامی اور مغرب کاسیاہ کارنامہ



امریکہ اورمغربی ممالک اور ان سے متحد جماعتیں (ناٹو) بیہودہ تلاش کرتی ہیں کہ انہیں مشرق وسطی میں قدم رکھنے کی جگہ مل جائے ۔

چنانچہ حرکت بیداری اسلامی اور اس کے نشانات اس موضوع کی صاف حکایت کرتے ہیں کہ اس خطے کے لوگ کبھی بھی ان کے ایسے پروگراموں کو وجود میں  نہیں آنے دیں گے  اسلئے کہ اب وہ امریکہ اوریورپ کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے اور جہان اسلام میں تمام مشکلات کو وجود میں لانے کا سبب انہیں کو جانتے ہیں ۔

واشنگٹن اور اس کے یورپی متحد گذشتہ دسیوں سال سے یہ واضح طور پر ثابت کرچکے ہیں : وہ کبھی بھی عربوں اور مسلمانوں کے اچھے دوست نہیں ہوسکتے اور ان کا یہ کردار ان کے افغابستان ، عراق ،لبنان ، فلسطین ، سیریا، پاکستان ، لیبیا اور یمن کے عوام کے ساتھ دشمنی اور بے رحمانہ بُرے رویہ اورسلوک سے باخوبی روشن ہوچکا ہے چنانچہ اگراس مسئلہ کا تاریخی لحاظ سے بھی جائزہ لیا جائے تو بالکل واضح اور ثابت ہے کہ امریکہ اور اس کے جیسے دوسرے ممالک ہمیشہ اپنے دشمن کو نابود کرنے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں لہذادور حاضر میں امریکہ اور یورپی حکومتوں کے بُرے کردار ، بدترین سلوک اوراس خطّے کے مقابل میں انکے سیاسی ، اقتصادی ،تہذیب اور تمدن کے غلط رویہ سے اس چیزکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

غیرتمند امت ِمسلمہ بھی ان کے ان حیلوں  کے مقابل میں جو ہرروز ہزارو کلومیٹردور سے مشرق وسطی ممالک کو اپنے تصرف میں لانے کے لئے جدید شرائط کی تلاش، نامناسب قیل وقال اور لڑائی جھگڑے کے نہ تنہا اپنے آپ کوکم سمجھا بلکہ ان کے اس ڈیموکراسی ،آزادی اور حقوق بشر کے اصول اورنظام کو بھی ان کامسخرِہ پن سمجھنے لگے ۔

اس لئے کہ ان کے لئے  اب یہ بخوبی واضح اور روشن ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نعرہ صرف اور صرف اسلامی قدرتوں پر تسلط پیدا کرنے اور ان کی تہذیب کو بگاڑ نے کے لئے ہے جو کبھی بھی امت مسلمہ کے نفع میں نہیں ہوسکتا ۔

لہذا اس بناپر آزاد ملتوں نے ان بین المللی ڈکیتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بہت سے اقدام کئے ہیں اور عراق ، افغانستان اور دوسرے وہ ملک جن پر انھوں نے تجاوز کرکے بر باد کیاہے تجاوز گروں پر مختلف طریقہ سے سنگین ضربہ وارد کئے ہیں ۔

 جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ افغانستان اور عراق میں وہاں کے باشندوں کی جانب سے حملوں نے امریکہ اور اس کے حامی مغربی ممالک  کے لئے عرصہ زندگی کوتنگ کردیاہے ۔

اگر چہ ہم لیبیامیں استعمار کی اس نئی چال کا مشاہدہ کررہے ہیں : امریکہ اور مغربی ممالک انقلابیوں کی مدد کے بہانے عمر مختار کی سرزمین پر اپنی نئی چال پیش کرکے اپنے نفوذ کے لئے راستہ ہموار کرہے ہیں ۔

لیکن یہ مسلم ہے کہ آئندہ نزدیک وہ زیادہ عرصہ تک اس ملک میں حاضر نہیں رہ سکتے اس لئے کہ یہ حقیقت واضح اور آشکار ہے کہ اب مؤمن ملّت کے عزم، اردہ ، انکی تلاش ، کوشش اور ان کی فکرپہلے کی نسبت دوبرابرہوچکی اور وہ مکمل طور سے یہ سمجھ چکے کہ اس دور کے سب سے بڑے شیطان امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کے مریض ذہنوں میں سوائے ان ملکوں کی بربادی اور غارت گری کے کچھ موجود نہیں ہے ۔



1 2 3 4 5 next