پیغمبر اکرم کے مبعوث ہونے کے متعلق حضرت عیسی (ع) کی بشارت



سوال :  کیا حضرت عیسی (ع) نے پیغمبرا کرم (ص) کے مبعوث ہونے کی بشارت دی تھی ؟

جواب :  قرآن مجید میں کم سے کم دو جگہوں پر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :

١۔  پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بعثت کے متعلق حضرت عیسی (علیہ السلام) نے اس طرح بشارت دی ہے ، قرآن کریم کے سورہ صف کی چھٹی آیت میں ذکر ہوا ہے : ''وَ ِذْ قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ یا بَنی ِسْرائیلَ ِنِّی رَسُولُ اللَّہِ ِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْراةِ وَ مُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جاء َہُمْ بِالْبَیِّناتِ قالُوا ہذا سِحْر مُبین '' ۔   اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسٰی (علیہ السّلام) بن مریم علیہ السّلام نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والا اور اپنے بعد کے لئے ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے لیکن پھر بھی جب وہ معجزات لے کر آئے تو لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ توکھلا ہوا جادو ہے ۔

٢۔  قرآن کریم کی متعدد آیات میں پیغمبر اکرم (ص) کے متعلق توریت (یا توریت اور انجیل) کی بشارت ذکر ہوئی ہے اور اس معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کتابوں میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نشانیاں اور ا وصاف اس قدر آشکار بیان ہوئے تھے کہ یہ ان علامتوں کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص)کو اپنے بچوں کی طرح پہچانتے تھے ۔

یہاں تک کہ مشہور تواریخ میں ذکر ہوا ہے کہ یہودیوں نے شامات اور فلسطین کے علاقوں سے مدینہ اسی لئے ہجرت کی تھی کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں پیغمبر اکرم کے ظہور کی علامات دیکھی تھیں ۔ یہ بات تفصیل کے ساتھ تفسیر نمونہ میں سورہ بقرہ کی ٨٩ ویں آیت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے (١) ۔ اگر چہ ان میں سے بہت سے وہ گروہ جوپہلے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تبلیغ کرتے تھے اور آنحضرت (ص) کے ظہور کے بعد اپنے ذاتی منافع کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لائے اور قرآن کریم کی آیتوں میں ان کی مذمت کی گئی ہے ۔

سورہ بقرہ کی ١٤٦ ویں آیت اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے : ''الَّذینَ آتَیْناہُمُ الْکِتابَ یَعْرِفُونَہُ کَما یَعْرِفُونَ أَبْناء َہُمْ وَ ِنَّ فَریقاً مِنْہُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَ ہُمْ یَعْلَمُونَ '' ۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ رسول کو بھی اپنی اولاد کی طرح پہچانتے ہیں۔بس ان کا ایک گروہ ہے جو حق کو دیدہ و دانستہ چھپا رہا ہے۔

یہی بات سورہ انعام کی ٢٠ ویں آیت میں ذکر ہوئی ہیں، وہاں پر فرمایا ہے : ''الَّذینَ آتَیْناہُمُ الْکِتابَ یَعْرِفُونَہُ کَما یَعْرِفُونَ أَبْناء َہُمُ الَّذینَ خَسِرُوا أَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لا یُؤْمِنُونَ '' ۔

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پیغمبر کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہنچاتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے وہ ایمان نہیں لاسکتے۔

یہی معنی صراحت کے ساتھ سورہ اعراف کی ١٥٧ ویں آیت میں ذکر ہوئے ہیں : ''الَّذینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذی یَجِدُونَہُ مَکْتُوباً عِنْدَہُمْ فِی التَّوْراةِ وَ الِْنْجیلِ'' ۔ جو لوگ کہ رسولِ نبی امّی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

اسی طرح ان آیات کی تفسیر میں جن میں کہا گیا ہے : قرآن ، گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ، ان میں سے ایک احتمال یہ دیا گیا ہے کہ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے سے مراد قرآن کی ہماہنگی اور پیغمبر اکرم(ص) کے وہ صفات ہیں جو ان علامتوں کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جوگزشتہ انبیاء کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں (٢) ۔(٣) ۔



1 2 3 next