قرآن کریم میں پیغمبر اکرم (ص) کا بچپنا



سوال :  کیا قرآن مجید میں پیغمبر اکرم (ص) کے بچپنے کے متعلق ذکر ہوا ہے ؟

جواب :  قرآن مجید میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بچپنے کے متعلق زیادہ بحث نہیں ہوئی ہے ۔ صرف سورہ ضحی کی ٦و ٧ و ٨ آیات میں ملتا ہے : ''أَ لَمْ یَجِدْکَ یَتیماً فَآوی ، وَ وَجَدَکَ ضَالاًّ فَہَدی ، وَ وَجَدَکَ عائِلاً فَأَغْنی''۔ کیا اس نے تم کو یتیم پاکر پناہ نہیں دی ہے ، اور کیا تم کو گم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا ہے ، اور تم کو تنگ دست پاکر غنی نہیں بنایا ہے۔

پہلی آیت میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یتیمی کے بارے میں اشارہ ہوا ہے جس کا ذکر تاریخ میں بھی موجود ہے کیونکہ جس وقت آپ شکم مادرمیں تھے اس وقت آپ کے والد عبداللہ کاانتقال ہوگیا تھا اور جب آپ چھے سال کے تھے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور خداوندعالم نے ان کو ان کے داد عبدالمطلب کی آغوش میں دیدیا اور آٹھ سال کی عمر میں دادا کا بھی انتقال ہوگیا اوراپنے چچا ابوطالب کی آغوش میں پرورش پائی جو آپ کی بہت زیادہ محافظت کرتے تھے ۔

تیسری آیت میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تنگ دستی کا ذکر کیا ہے پھر خداوند عالم نے حضرت خدیجہ (علیہا السلام) کے دل میںآپ کی محبت ڈال دی اور آپ نے ان سے شادی کرلی اور حضرت خدیجہ نے اپنی ساری دولت ان کے قدموں میں ڈال دی ۔

لیکن دوسری آیت میں فرماتا ہے :  اور کیا تم کو گم گشتہ پاکر منزل تک نہیں پہنچایا ہے، بعض مفسرین نے ''ضالا'' کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ آپ حق کو نہیں پہچانتے تھے اور کہا ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ گمراہ تھے اور حق کو نہیں پہچانتے تھے اورہم نے تمہاری حق کی طرف ہدایت کی ۔ جبکہ بعض دوسرے علماء نے اس کو غفلت کے معنی میں لیا ہے یعنی تم اس کتاب اور آسمانی احکام سے غافل تھے ، بعض نے کہا ہے کہ ضلالت سے مراد ،ظاہری ظلالت ہے ، یعنی بچپنے میں ایک یا چند مرتبہ مکہ کی پہاڑیوں یا دوسری جگہ پر گم ہوگئے تھے اور خداوندعالم نے آپ کو ہدایت کی اور اپنے دادا عبدالمطلب ،یا ابوطالب ، حلیمہ سعدیہ کی طرف پلٹ گئے (١) ۔

١۔  آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی کتاب پیام قرآن سے اقتباس ، جلد ٨، صفحہ ٦٠ ۔