صلح امام حسن علیه السلام کے اسباب و علل



 

حضرت حسن بن علی بن ابی طالب (علیهم السلام) شیعوں کے دوسرے امام، سبط اکبر اور ریحانه رسول خدا (صلی الله علیه وآله)، سید جوانان اهل جنت اور اصحاب کساء میں سے هیں، آپ شیعه و سنی مفسرین و محدثین کے اتفاق کی بنا پر اهل بیت علیهم السلام اورآیه تطهیر و آیه مباهله کے مصداق هیں که خداوندعالم نے ان کی پاکیزگی کی خبر دی هے، اور پیغمبر اکرم (ص) نے ان کے اور ان کے برادر (امام حسین ع) کے بارے میں فرمایا: "حسن و حسین دونوں امام هین چاهے وه کهڑے هوں یا بیٹھے هوں" یعنی حسن و حسین علیهما السلام هر حال میں امام اور پیشوا هیں، چاهے کهڑے هوں (یعنی قیام کریں، یا بیٹھ جائیں، (اور صلح کریں)

امام حسین علیه السلام کی زندگی ایک اهم حصه، معاویه کے ساته آپ کی صلح هے، اس سلسله میں گفتگو کرنے سے پهلے اس نکته کی طرف توجه کرنا ضروری هے که امام حسن علیه السلام نے معاویه کی بیعت نهیں کی بلکه مخصوص شرائط کے تحت صلح کی، چونکه بیعت میں کبهی بهی بیعت کرنے والا شرائط نهیں رکهتا، جبکه اس صلح میں تمام شرائط حضرت امام حسن علیه السلام نے طے کئے، اور اس کے بعد اس صلح نامه پر طرفین نے دستخط کئے، هم اب یهاں پر اس صلح نامه کے اسباب و علل کو بیان کرتے هیں:

1-    امام علیه السلام کا علم

امام معصوم علیه السلام لوگوں پر خدا کی حجت هوتا هے، اسی وجه سے ان کی رفتار و گفتار حجت هوتی هے، اس بنیاد کی بنا پر امام حسن (علیه السلام) کی صلح ایسا عمل هے جو حجت خدا کی طرف سے انجام پایا هے، اور اس کو بهت سے قطعی اور مضبوط دلائل کے تحت انجام دیا هے، اگرچه دیگر افراد کو یه معلوم نه هو، چنانچه خود امام حسن (علیه السلام) نے اس کی طرف اشاره کیا هے، شیخ صدوق نے اپنے اسناد کے ساته ابی سعید عقیصا سے روایت کی هے که انهوں نے کها:

«جب میں حضرت امام حسن (علیه السلام) کی خدمت میں پهنچا اور آپ سے عرض کی: اے فرزند رسول خدا! جب آپ کو معلوم هے که حق آپ کے ساته هے، پهر کیوں آپ نے گمراه اور ظالم کے ساته صلح کی هے، تو امام علیه السلام نے فرمایا: اے ابو سعید! معاویه کے ساته میری صلح کے علل و اسباب وهی هیں جو رسول خدا (ص) کے مکه والوں اور بنی ضمره کے ساته صلح کے تهے، اهل مکه کافر هیں، تنزیل (قرآن کریم کی ظاهری آیات) کی بنا پر، اور معاویه اور اس کے اصحاب بهی کافر هیں تاویل (قرآن کریم کے آیات کے باطن) کی بنا پر.

 اے ابوسعید! کیا تم نے جناب خضر (ع) کے واقعه کو نهیں سنا که اس لڑکے کو کشتی میں سوراخ کرنے کی وجه سے قتل کر ڈالا، اور اس گری هوئی دیوار کی مرمت کردی، جناب موسی علیه السلام نے ان کے کاموں پر اعتراض کیا، کیونکه انهیں ان کاموں کا راز معلوم نهیں تها، لیکن جس وقت ان کاموں کی علت کو سمجه لیا تو اس پر راضی هوگئے، اسی طرح میری صلح هے اور چونکه تمهیں اس کا راز معلوم نهیں هے اس وجه سے اس پر اعتراض کرتے هو».  

2-   دین کا تحفظ

حضرات ائمه علیهم السلام کے نزدیک ، دین کی حفاظت، اور اهل بیت(ع) کی تعلیمات کا زنده کرنا سب سے بنیادی عنصر هے، چنانچه حضرت امام علی علیه السلام فرماتے هیں: «سلامة الدین احبّ الینا من غیره.» یعنی دین کا تحفظ، همارے نزدیک دوسری تمام چیزوں سے زیاده محبوب هے.

اس بنا پر حضرت امام حسن (علیه السلام) کی صلح کی ایک اهم علت «دین کا تحفظ» قرار دیا جاسکتا هے،کیونکه اسلامی معاشره کے حالات اس طرح تهے که معاویه کے ساته جنگ کرنے میں اصل دین هی ختم هوجاتا ، اس کے علاوه اسلامی معاشره کے بیرونی حالات اس بات کی عکاسی کررهے تهے که مشرقی روم، مسلمانوں پر فوجی حمله کرنے کے لئے تیار تها.

 دوسری طرف سے اس وقت کے مسلمان بهی ثقافتی لحاظ سے ایسے حالات میں تهے جو جنگ و خونریزی کو دین اور مقدسات کے سلسله میں ایک قسم کی بدبینی سمجه رهے تهے، جیسا که حضرت امام حسن (علیه السلام)  نے اپنے چاهنے والوں کے اعتراض کے جواب میں فرمایا: «انّی خشیت أن یجتثّ المسلمون عن وجه الارض فاردت ان یکون للدّین ناعی؛ میں اس بات سے خوف زده هوں که کهیں زمیں سے مسلمانوں کی جڑوں کا خاتمه نه کردیا جائے، اور کوئی بهی مسلمان باقی نه رهے، اسی وجه سے میں صلح کرکے دین خدا کی حفاظت کی هے».

3-   مصالح عمومی

عام مصلحتوں کی رعایت کرنا، سب سے زیاده عقلمندی اسٹراٹیجک هوتی هے، جو دلسوز اور آزادی خواه رهبروں خصوصا الهی رهبروں کی طرف سے هوتی هے، چونکه وه حضرات عام مصلحتوں کو ذاتی یا کسی خاص گروه کی مصلحتون پر قربان نهیں کرتے، حضرت امام حسن(علیه السلام) نے بهی خونریزی سے روک تهام اور مسلمانوں کی مصلحتوں کی پیش نظر صلح کی، جیسا که آپ نے فرمایا:

 «میں نے صلح قبول کی هے تاکه خونریزی  سے روک تهام کرسکوں اور اپنی اور اپنے اهل خانه اور اپنے اصحاب کی جان کی حفاظت کی هے.»



1 2 3 next