شبہ آکل و ماکول



 

مردوں کے زندہ ہونے کے منظر کا مشاہدہ کرنے کا تقاضا حضرت ابراہیم نے جس وجہ سے کیا تھا اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تقاضا زیادہ تر اس وجہ سے تھا کہ ایک جانور کا بدن دوسرے جانوروں کے بدن کا جز بننے کے بعد وہ اپنی اصلی صورت میں کیسے پلٹ سکتا ہے، علم عقائد میں اسی بحث کو ”شبہ آکل و ماکول “ کہا جاتا ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ قیامت میں خدا انسان کو اسی مادی جسم کے ساتھ پلٹائے گا اصطلاحی الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جسم اور روح دونوں پلٹ آئیں گے۔

اس صورت میں یہ اشکال پیش آتا ہے کہ اگر ایک انسان کا بدن خاک ہوجائے اور درختوں کی جڑوں کے ذریعہ کسی سبزی یا پھل کا جز بن جائے تو پھر کوئی دوسرا انسان اسے کھالے اور اب یہ اس کے بدن کا جز بن جائے ،یا مثال کے طور پر قحط سالی میں ایک دوسرے انسان کا گوشت کھالے تو میدان حشر میں کھائے ہوئے اجزا ان دونوں میں سے کس بدن کے جز بنیں گے، اگر پہلے بدن کا جزبنیں تو دوسرا بدن ناقص اور دوسرے کا بنیں تو پہلا ناقص رہ جائے گا۔

جواب:

فلاسفہ اور علم عقائد کے علمانے اس قدیم اعتراض کے مختلف جوابات دئے ہیں یہاں پر سب کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری نہیں ہے، بعض علماایسے بھی ہیں جو قابل اطمینان جواب نہیں دے سکے اس لئے انھیں معادِ جسمانی سے متعلق آیات کی توجیہ و تاویل کرنا پڑی اور انھوں نے انسان کی شخصیت کو روح اور روحانی صفات میں منحصر کردیا، حالانکہ انسانی شخصیت صرف روح پر منحصر نہیں ہے اور نہ ہی معاد جسمانی سے متعلق آیات ایسی ہیں کہ ان کی تاویل کی جاسکے، بلکہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ کاملاً صریح آیات ہیں۔

بعض لوگ ایک ایسی معاد کے بھی قائل ہیں جو ظاہراً جسمانی ہے لیکن معاد روحانی سے اس کا کوئی خاص فرق بھی نہیں ہے۔

 ہم یہاں قرآن کی آیات کے ذریعہ ایک ایسا واضح راستہ اختیار کریں گے جو دورِ حاضر کے علوم کی نظر میں بھی صحیح ہے البتہ اس کی وضاحت کے لئے چند پہلووٴں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی بدن کے اجزا بچپن سے لے کر موت تک بارہا بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ دماغ کے خلیے اگرچہ تعداد کے لحاظ سے کم یا زیادہ نہیں ہوتے پھر بھی اجزا کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں کیونکہ ایک طرف سے وہ غذا حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی تحلیل ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ایک مکمل تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ دس سال سے کم عرصے میں انسانی بدن کے گزشتہ ذرات میں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا، لیکن توجہ رہے کہ پہلے ذرات جب موت کی وادی کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو اپنے تمام خواص اور آثار نئے اور تازہ خلیوں کے سپرد کرجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم کے تمام خصوصیات رنگ، شکل اور قیافہ سے لے کر دیگر جسمانی کیفیات تک زمانہ گزرنے کے باوجود اپنی جگہ قائم رہتی ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پرانے صفات نئے خلیوں میں منتقل ہوجاتے ہیں(غور کیجئے)

اس بنا پر ہر انسان کے بدن کے آخری اجزا جو موت کے بعد خاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں وہ سب ان صفات کے حامل ہوتے ہیں جو اس نے پوری عمر میں کسب کئے ہیں اور یہ صفات انسانی جسم کی تمام عمر کی سرگزشت کی بولتی ہوئی تاریخ ہوتی ہیں۔



1 2 next