شفاعت کے بارے میں اعتراضات و شبھات



 

 

شفاعت کے بارے میں بہت سے اعتراضات و شبھات بیان کئے گئے، یھاں پرھم ان میں سے بعض اھم اعتراضات و شبھات کا تجزیہ کریں گے۔

پھلا شبہہ:پھلا شبہہ یہ ھے کہ بعض آیات قرآنی اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ روز قیامت کسی کی بھی شفاعت قبول نھیںکی جائے گی جیسا کہ سورہ بقرہ کی ۴۸ویں آیہ میں فرماتا ھے:

<وَ اتَّقُوا یَوماً لا تَجزِی نَفسٌ عَن نَّفسٍ شَیئاً وَ لا یُقبَلُ مِنھَا شَفَاعَةٌ

 وَ لا یُوخَذُ مِنھَا عَدلٌ وَ لا ھُم یُنصَرُونَ>

جواب: اس طرح کی آیات بغیر قاعدہ وقانون کے مطلقاًاور مستقل شفاعت کی نفی کرتی ھیں بلکہ جو لوگ شفاعت کے معتقد ھیں وہ  مزیداس بات کے قائل ھیں کہ مذکورہ آیات عام ھیں جو ان آیات کے ذریعہ جو خدا کی اجازت اور مخصوص قواعد وضوابط کے تحت شفاعت کے قبول کرنے پر دلالت کرتی ھیں تخصیص دی جاتی ھیں جیسا کہ پھلے بھی اشارہ ھوچکا ھے۔

دوسرا شبہہ: شفاعت کے صحیح ھونے کا لازمہ یہ ھے کہ خداوندعالم شفاعت کرنے والوں کے زیر اثر قرار پائے یعنی ان لوگوں کی شفاعت فعل الھی یعنی مغفرت کا سبب ھوگی،

جواب: شفاعت کا قبول کرنا زیر اثر ھونے کی معنی میں نھیں ھے جس طرح توبہ اور دعا کا قبول ھونا بھی مذکورہ غلط لازمہ نھیں رکھتا ھے، اس لئے کہ ان تمام موارد میں بندوں کے افعال کا اس طرح شائستہ و سزاوار ھونا ھے کہ وہ رحمت الہٰی کو جذب کرنے کا باعث بن سکیں، اصطلاحاًقابل کی شرط قابلیت اور فاعل کی شرط فاعلیت نھیں ھے۔

تیسرا شبہہ: شفاعت کا لازمہ یہ ھے کہ شفاعت کرنے والے خدا سے زیادہ مھربان ھوں، اس لئے کہ فرض یہ ھے کہ اگر ان کی شفاعت نہ ھوتی تویہ گنہگار لوگ عذابمیں مبتلا ھوجاتے،یا ھمیشہ معذّب رہتے،



1 2 next