کیا ”شفاعت“ توحید کے منافی ہے؟



 

شفاعت کے سلسلہ میں سب سے اہم اعتراض یہ ہے کہ شفاعت کا عقیدہ توحید کے بر خلاف ہے، البتہ یہ اعتراض وہابیوں کی طرف سے بہت زیادہ پروپیگنڈے اور کافی خرچ کی بنا پر وسیع پیمانے پر ہو تاآیا ہے، لہٰذا اس سلسلے میں مزید تو جہ کی ضرورت ہے۔

 وہابیوں کے عقائد کا محور عمدہ طور پر چند چیزیں ہیں،جن میں سب سے اہم ”توحید افعالی“ اور ”توحید عبادی“ ہے، یہ لوگ توحید کی اس قسم کے معنی اس طرح کرتے ہیں جس سے شفاعت شافعین، انبیاء اور اولیاء اللہ کی ارواح سے مدد مانگنا، یا خدا کی بارگاہ میں ان کو شفیع قرار دینا، توحید خدا کے منافی ہے، اور اسی وجہ سے یہ لوگ (وہابیوں کے علاوہ) ان چیزوں کا عقیدہ رکھنے والے تمام فرقوں کومشرک جانتے ہیں! اور اگر آپ تعجب نہ کریں تو یہ بھی عرض کردیا جائے کہ یہ لوگ ان عقائد رکھنے والوں کی جان، مال اور ناموس کو زمانہٴ جاہلیت کے مشرکین کی طرح مباح مانتے ہیں!

ان لوگوں نے اسی عقیدہ کی بنا پر حجازاور عراق (وغیرہ) کے بہت سے مسلمانوں کا خون بہایا، ان کے اموال کو تاراج کیااور ایسا ظلم و ستم کیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

اس سلسلہ میں محمد بن عبد الوہاب (متوفی  ۱۲۰۶ئھ) اس فرقہ کے بانی نے اپنی مشہور کتاب ”رسالہ اربع قواعد“ میں بہت سی باتیں تحریر کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے:

شرک سے نجات صرف ”چار قواعد“ کے ذریعہ ہی ممکن ہے:

۱۔ جن مشرکین سے پیغمبر اکرم  (ص) نے جنگ کی ہے وہ سب خداوندعالم کو خالق، رازق اور اس جہان کا مدبر مانتے تھے جیسا کہ سورہ یونس آیت نمبر ۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے:

< قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ اٴَمَّنْ یَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاٴَبْصَارَ وَمَنْ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنْ الْحَیِّ وَمَنْ یُدَبِّرُ الْاٴَمْرَ فَسَیَقُولُونَ اللهُ فَقُلْ اٴَفَلاَتَتَّقُونَ >(1)

پیغمبر ذرا ان سے پوچھئے کہ تمہیں زمین اور آسمان سے کون رزق دیتا ہے اور کون تمہاری سماعت و بصارت کا مالک ہے اور کون مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور کون سارے امور کی تدبیر کرتا ہے تو یہ سب یہی کہیں گے کہ اللہ! تو آپ کہہ دیجئے کہ پھر اس سے کیوں نہیں ڈرتے“۔

اس آیت کی بنا پر وہ لوگ خداوندعالم کی رزّاقیت، خالقیت ، مالکیت اور مدبریت کا عقیدہ رکھتے تھے۔



1 2 3 4 5 6 7 next