کمال نھائی کی حقیقت



  

 مفھوم کمال اور انسانی معیار کمال

دنیا کی باحیات مخلوق جن سے ھمارا سرو کار ھے،ان میں سے نباتات نیز حیوان و انسان گوناگوں صلاحیت کے حامل ھیں، جس کے لئے مناسب اسباب و علل کا فراھم ھونا ظاھر وآشکار اور پوشیدہ توانائیوں کے فعال ھونے کا سبب ھیں، اور ان صلاحیتوں کے فعال ھونے سے ایسی چیزیں معرض وجود میں آتی ھیں جواس سے قبل حاصل نھیں تھیں، اس طرح تمام با حیات مخلوق میںدرونی قابلیتوں کو پوری طرح سے ظاھر کرنے کے لئے طبیعی تلاش جاری ھے، البتہ یہ فرق ھے کہ نباتات موجودات کے ان طبیعی قوانین کے اصولوں کے پابند ھیں،جو ان کے وجود میں ڈال دی گئی ھیں، جانوروں کیسعی و کوشش حب ذات جیسے عوامل پر مبنی ھے جو فطری الھام وفھم کے اعتبار سے اپنے امور انجام دیتے ھیں  لیکن انسان کی جستجو، اختیار وعلم کی روشنی میں ھوتی ھے۔

اس وضاحت کے مطابق جو اختیار اور اس کے اصول کی بحث میں گذرچکا ھے، اس کے کمال نھائی کا مقصد دوسری مخلوق سے بالکلعلیحدہ اور جدا ھے۔

گذشتہ مطالب کی روشنی میں کھا جا سکتا ھے کہ ”کمال“ ایک وجودی صفت ھے جو ایک وجود کا دوسرے وجود کے مقابلہ میں حقیقی توانائی وقوت کی طرف اشارہ کرتا ھے،اور کامل وجود اگر فھم وشعور کی نعمت سے مالامال ھو تو کمال سے مزین ھونے کی وجہ سے لذت محسوس کرتا ھے، گذشتہ مفھوم کی بنیاد پر کمال اگر طبیعی اور غیر اختیاری طور پر  حاصل ھو جائے جیسے انسان کی حیوانی توانائی کا فعال ھونا(جیسے جنسی خواھش)تو اسے غیر اکتسابی وغیر طبیعی کمال کھا جاتا ھے اور اگر دانستہ اور اختیاری تلاش کی روشنی میں حاصل ھوتو کمال اکتسابی کھا جاتا ھے، پس جب یہ معلوم ھوگیا کہ ھر موجود کا کمال منجملہ انسان کا کمال ایک قسم کی تمام قابلیت کا ظاھر اورآشکار ھونا ھے، توبنیادی مسئلہ یہ ھے کہ انسان کا حقیقی کمال کیا ھے اور کون سی قابلیت کا ظاھر ھونا انسانی کمال سے تعبیر کیا جاسکتا ھے؟ بے شک انسان کی قابلیتوں اور خواھشوں کے درمیان حیوانی اور مادی خواھشوں کے ظاھر ھونے کو انسانی کمالات میں شمار نھیں کیا جاسکتااس لئے کہ یہ خواھشیں انسان اور حیوان کے درمیان مشترک ھیں اور حیوانی پھلو سے ان قابلیتوں کے فعال ھونے کا مطلب انسان کا تکامل پانا ھے۔

ایسے مرحلہ میں انسان کی انسانیت ابھی بالقوہ ھے اور اس کی حیوانیت بالفعل ھوچکی ھے اور یہ محدود،ناپایدار اور سریع ختم ھونے والی صلاحیتیں انسان کی واقعی حقیقت یعنی نا قابل فنا روح، اور ھمیشہ باقی رھنے والی لامحدود  خواھش سے سازگار نھیں ھے، انسان کی انسانیت اس وقت بالفعل ھوگی جب اس ناقابل فناروح کی قابلیت فعال ھواور کمال وسعادت اور ختم نہ ھونے والی خالص اور ناقابل فنا لذت بغیر مزاحمت ومحدود یت کے حاصل ھو۔

 انسان کا کمال نھائی

انسانی کمال اور اس کی عام خصوصیات کے واضح ھونے کے بعد یہ بنیاد ی سوال در پیش ھوتا ھے کہ انسانی کمال کا نقطہ عروج اور مقصد حقیقی جسے ھر انسان اپنی فطرت کے مطابق حاصل کرنا چاہتا ھے اور اپنی تمام فعالیت جس کے حصول کے لئے انجام دیتا ھے وہ کیا ھیں؟ یا دوسرے لفظوں میں یوں کھا جائے کہ انسان کا کمال نھائی کیا ھے؟

اس سوال کے جواب کے وقت اس نکتہ پر توجہ ضروری ھے کہ حوادث زندگی میں انسان کی طرف سے جن مقاصد کی جستجو ھوئی ھے وہ ایک جیسے مساوی اور برابر نھیں ھیں بلکہ ان میں سے بعض اھداف، ابتدائی اھداف ھیں جو بلند وبالا اھداف کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ھیں اور بعض نھائی اور حقیقی اھداف شمار ھوتے ھیں اور بعض درمیانی ھیں جو مقدماتی اور نھائی اھداف کے درمیان حد وسط کے طور پر واقع ھوتے ھیں، دوسرے لفظوں میں، یہ تین طرح کے اھداف ایک دوسرے کے طول میں واقع ھیں، انسان کے نھائی کمال وھدف سے مراد وہ نقطہ ھے جس سے بڑ ھ کر کوئی کمال، انسان کے لئے متصور نھیں ھے اور انسان کی ترقی کا وہ آخری زینہ ھے جس کو حاصل کرنے کے لئے یہ تلاش وکوشش جاری ھے قرآن مجید نے اس نقطہ عروج کو فوز(کامیابی)،فلاح(نجات) اور سعادت(خوشبختی)جیسے ناموں سے یاد کیا ھے اور فرماتا ھے:

< وَ مَن یُطِعِ اللّٰہَ و رَسُولَہُ فَقَد فَازَ فَوزاً عَظِیماً >[1]

     اور جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ تو اپنی مراد کوبہت  اچھی طرح پھونچ گیا۔

<اُولٰئِکَ عَلَیٰ ھُدًی مِن رَّبِّھِم وِ اُولٰئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ>[2]



1 2 next