قرب الٰھی کی اهمیت



اھم گفتگو یہ ھے کہ اس کمال نھائی کا مقام ومصداق کیا ھے؟ قرآن کریم اس کمال نھائی کے مصداق کو قرب الھی بیان کرتا ھے جس کے حصول کے لئے جسمانی اور بعض روحی کمالات صرف ایک مقدمہ ھیں اور انسان کی انسانیت اسی کے حصول پرمبنی ھے اور سب سے اعلی،خالص، وسیع اور پایدار لذت،مقام قرب کے پانے سے حاصل ھوتی ھے،قرب خدا کا عروج وہ مقام ھے جس سے انسان کی خدا کی طرف رسائی ھوتی ھے اور رحمت الھیسے فیضیاب ھوتاھے، اس کی آنکھ اور زبان خدا کے حکم سے خدائی افعال انجام دیتی ھیں۔ منجملہ آیات میں سے جو مذکورہ حقیقت پر دلالت کرتی ھیں درجہ ذیل ھیں:

 ۱۔إِنَّ المُتَّقِینَ فِی جَنّاتٍ وَ نَھَرٍ فِی مَقعَدِ صِدقٍ عِندَ مَلِیکٍ مُقتَدرٍ

بے شک پرھیزگار لوگ باغوں اور نھروں میں پسندیدہ مقام میں ھر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاھوں میں ھوں گے۔[1]

۲،<فَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللّٰہِ وَ اعتَصَمُوا بِہِ فَسَیُدخِلُھُم فِی رَحمَةٍ مِّنہُ وَ فَضلٍ وَ یَھدِیھِم إِلَیہِ صِرَاطاً مُّستَقِیماً>[2]

 پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اسی سے متمسک  رھے تو خدا بھی انھیں عنقریب ھی اپنی رحمت و فضل کے بیخزاں باغ میں پھونچا دیگا اور انھیں اپنی حضوری کا سیدھا  راستہ دکھا دے گا۔

 اس حقیقت کو بیان کرنے والی روایات میں سے منجملہ حدیث قدسی ھے: 

   ”ما تقرب إلیّ عبد بشیٍ احبّ إلیّ ممّا إفترضت علیہ و انّہ لیتقرب إلی بالنافلةحتیٰ احبہ فإذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ

 الذی یبصر بہ و لسانہ الذی ینطق بہ و یدہ التی یبطش بھا“[3]

کوئی بندہ واجبات سے زیادہ محبوب شی کے ذریعے مجھ سے نزدیک نھیں ھوتا ھے،



1 2 3 4 5 next