اھل بیت(علیہم السلام)کی محبت و عقیدت سے متعلق کچھ باتیں (2)



طاعت و تسلیم

طاعت و تسلیم ولاء کا جوھر ھے ۔

اگر بر محل طاعت ھوتی ھے تو اس کی بڑی قیمت ھے اور اگر اپنی جگہ نہ ھو تو اس کی کوئی قیمت نھیں ھوتی، عصیان و سرکشی اورانکارکی بھی قیمت ھوتی ھے جب کہ ان کا تعلق شیطان سے ھے،لیکن اگر ان کا تعلق خدا کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اھل بیت(علیہم السلام) اور مسلمانوں کے صاحبانِ امر سے ھو تو یہ قیمت کی ضد قرار پائیں گے۔

چنانچہ سورہٴ زمر کی آیت ۱۷ میں ان دونوں قیمتوں کو جمع کر دیا گیاھے ۔ ارشاد ھے:

< وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُواْ الطَّاغُوتَ اٴن یَعبُدُوھَا، وَ اٴنَابُوا إلیٰ اللّٰہِ لَھُمُ الْبُشریٰ>

اور جو لوگ طاغوت کی پرستش کرنے سے پرھیز کرتے ھیں اور خدا سے لولگاتے ھیں ان کے لئے بشار ت ھے، اور سورہٴ نحل میں ارشاد ھے:

<اٴنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الْطَّاغُوتَ>[1]

تم خدا کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

طاعت و عبادت، انکار و اجتناب ایک  چیز ھے اور خدا نے ھمیں اپنی، اپنے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اولی الامر کی طاعت کا حکم دیا ھے:

<اٴطِیعُوا اللّٰہَ وَاٴطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴولِی الاٴمرِ مِنکُم>



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 next