امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے زمانہ میں شیعوں کی حالت



سوال :  امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے زمانہ میں شیعوں کی حالت کیسی تھی ؟

جواب :  امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے زمانہ میں عراق میں شیعہ ایک عظیم قدرت وطاقت میں تبدیل ہوگئے تھے اور تمام لوگ جانتے تھے کہ یہ گروہ خلیفہ وقت پر اعتراض کرتا ہے اور عباسیوں میں سے کسی ایک کی امامت کو جائز اور قانونی نہیں سمجھتے ،بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ امامت الہی ، علی کی اولاد میں باقی ہے اور اس وقت اس خاندان کی ممتاز شخصیت امام حسن عسکری (علیہ السلام) ہیں ۔ شیعوں کی طاقت کی گواہی خود معتمد عباسی کے وزیر عبیداللہ نے دی ہے ،اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام حسن عسکری (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد آپ کے بھائی جعفر ''کذاب'' ، عبیداللہ کے پاس گئے اور اس سے کہا : میرے بھائی کا عہدہ مجھ پر چھوڑ دو ، میں اس کے بدلے میں تمہیں ہر سال بیس ہزار دینار دوں گا ، وزیر نے ان سے کہا : احمق! خلیفہ نے ان لوگوں پر اس قدر تلوار چلائی جو تمہارے والد اور بھائی کو امام سمجھتے تھے لیکن وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور اس نے پوری کوشش کی لیکن اس کو کچھ نہ مل سکا ،لہذا اگر اب تم شیعوں کی نظر میں امام ہو تو خلیفہ اور غیر خلیفہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ان کی نظر میں تمہارا یہ مقام نہیں ہے تو ہماری کوشش اس سلسلہ میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی (١) ۔

ان تمام باتوں کے باوجود بہت سے ایسے اسناد اور دلایل موجود ہیں جو ایک طرف تو عباسی دربار کے خائنانہ کردار اور شیطنت کی گہرائی کو بتاتی ہیں اور دوسری طرف امام علیہ السلام کی ہشیاری اور امنیتی تدابیر ہیں جن سے آپ نے اپنے شیعوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا ، مندرجہ ذیل چند مثالوں کو بیان کرتے ہیں :

١۔  ابوہاشم دائود بن قاسم جعفری(٢) کہتے ہیں : ہم چند لوگ زندان میں تھے کہ امام حسن عسکری اور ان کے بھائی جعفر کو زندان میں بھیجا گیا ، ہم آپ کی شان میں عرض ادب اور خدمت کے لئے دوڑے اور آپ کے گرد جمع ہوگئے ، زندان میں ایک جحمی شخص خ.ل. عجمی موجود تھا اور وہ دعوی کرتا تھا کہ وہ خود علویوں میں سے ہے ، امام نے اس کو دیکھ کر کہا : اگر تمہارے درمیان ایک ایسا شخص نہ ہوتا جو تم میں سے نہیں ہے تو میں تمہارے آزاد ہونے کی خبر دیتا ،پھر اس جحمی شخص کو باہر جانے کا اشارہ کیا ، جب وہ باہر چلا گیا تو ان سے کہا کہ یہ شخص تم میں سے نہیں ہے ، اس سے ہوشیار رہنا ، تم نے جو کچھ کہا ہے اس نے وہ سب لکھ رکھا ہے اور وہ یہ تمام باتیں خلیفہ تک پہنچائے گا ،وہ گزارش اب بھی اس کے کپڑوں میں موجود ہے ، حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کی تلاشی لی اور اس کے لباس میں سے وہ گزارش لے لی (٣) ۔

اس حادثہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قید خانہ میں بھی امام اور شیعوں کوکنٹرول کرنے کے لئے جاسوس چھوڑ رکھے تھے ۔

٢۔  امام کے ایک صحابی کہتے ہیں : ہم کچھ لوگ سامراء میں داخل ہوئے اور اس انتظار میں تھے کہ امام گھر سے باہر نکلیں تو ہم گلی ،کوچہ میں ان سے ملاقات کریں ، اسی وقت امام علیہ السلام کی طرف سے ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا ہوا تھا تم میں سے کوئی بھی مجھے سلام نہ کرے ، میری طرف نہ بڑھے اور میری طرف اشارہ نہ کرے کیونکہ تمہاری جان کو خطرہ ہے (٤) ۔

٣۔  عبدالعزیز بلخی کہتا ہے : ایک روز ہم بازار میں اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں بھیڑ اور بکریوں کو بینچا جاتا ہے ،اچانک میں نے امام حسن عسکری (علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ شہر کے دروازہ کی طرف جارہے ہیں میں نے دل میں سوچا کہ میں بلند آواز سے لوگوں کو بتائوں کہ اے لوگو! یہ خدا کی حجت ہیں ، ان کو پہچان لو ، لیکن میں نے سوچا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو یہ درباری لوگ مجھے قتل کردیں گے ! امام جس وقت میرے نزدیک پہنچے اورمیں نے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنی انگلی کو اپنے ہونٹوں پر رکھا اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا! میں جلدی سے آگے بڑھا اور آپ کے پیروں کا بوسہ لیا ،فرمایا : اپنی حفاظت کرو ، اگر فاش کرو گے ہلاک ہوجائو گے ! اس رات میں امام کے پاس گیا ، فرمایا : رازداری سے کام لو ورنہ قتل کردئیے جائو گے ،اپنے آپ کو خطرہ میں نہ ڈالو (٥) ۔

٤۔  امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے زمانہ میں علویوں میں سے ایک شخص کسب و کار کے ارادہ سے سامراء سے باہر نکلا اور شہر جبل (ایران کے مغربی پہاڑوں ،ہمدان اور قزوین) کی طرف چلا گیا ،وہاں پر ''حلوان'' (پل ذھاب) کے ایک شخص نے جو امام کا چاہنے والا تھا ، اس سے ملا اور پوچھا : کہاں سے آئے ہو؟

اس نے کہا : سامراء سے ۔

کیا فلاں محلہ اور فلاں شخص کو پہچانتے ہو ؟



1 2 next