امامت قرأن و حديث کی روشنی ميں



مقدمہ

قارئین کرام !  ”امامت“ کے موضوع پر بہت زیادہ بحث وگفتگو هوئی ھے یھاں کہ اس سلسلہ میں ہزاروں کتابیں لکھیں جاچکی ھیں۔

اورمتعدد موٴلفین نے اس سلسلہ میں بہت سی فروعات پر تفصیلی گفتگو کی ھے چنانچہ بعض موٴلفین نے کچھ پھلووں پر گفتگو کی ھے تو بعض دیگر موٴلفین نے دوسرے پھلو پرروشنی ڈالی ھے، کیونکہ بعض موٴلفین نے بحث امامت کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا او ربعض دیگر موٴلفین نے امامت کو حدیث کی روشنی میں، تو بعض موٴلفین نے امامت کو علم کلام کی روشنی میں بیان کیا تو کسی نے تاریخ کی روشنی میں اور کسی نے امامت کی بحث کو وقت وفات النبی  سقیفہ کے حدود میں بیان کیا ھے تو بعض لوگوں نے ائمہ  (ع) کی سوانح حیات اور ان کی تاریخ بیان کی ھے، چنانچہ آج تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری ھے۔

 چونکہ اس سلسلہ میں لکھی گئی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ھے لیکن پھر بھی بعض لوگوں نے تعصب اور خود غرضی کے تحت اس موضوع کی حقیقت ھی کو بیان نھیں کیا، لہٰذا بہت سی کتابیں اسی تعصب اور کج فکری سے بھری پڑی ھیں چنانچہ اسی تعصب کا نتیجہ ھے کہ ان کتابوں میں ایسے مسائل بیان کئے گئے ھیں جن کو عقل ومنطق قبول نھیں کرتی۔

یھی وجہ ھے کہ ان لوگوں نے بحث امامت کو اس طرح پیش کیا ھے جس میں هوا پرستی اور خیالی تصورات کے علاوہ کچھ نھیں پایا جاتا اور ان میں نہ تو امامت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ھے اور نا ھی ایسے نکات کو بیان کیا گیا جو بین المسلمین متفق علیہ هوں،جبکہ ان نظریات کا سبب صرف یھی کتابیں ھیں جو اصل موضوع سے خارج ھیں۔

 لہٰذا اب ھم صاف طور پر بیان کرتے ھیں :

”ھم چونکہ آج امامت کی بحث کرنا چاہتے ھیں جبکہ ”سقیفہ“ کو چودہ صدیاں گذر گئیں ھیں پس یہ کیوں کھا جاتا ھے کہ ھم اختلاف کررھے ھیں اور جب اختلاف کرتے ھیں (جیسا کہ بحث کرنے والوں کا وطیرہ رھا ھے) تو ھم پر تعصب اور زیادہ روی کی تھمت کیوں لگائی جاتی ھے ؟! جبکہ اختلاف رائے سے کسی واقعہ کی حقیقت نھیں بدلتی۔“

تو کیا اس موضوع کے بارے میں ایسے امور ھیں جن کی وجہ سے معاصر انسان مطمئن هوجائے اور اپنے دل میں موجودہ شبھات کا حل تلاش کرلے؟۔

یا اس سلسلہ میں کچھ ایسے موارد ھیں جن کی وجہ سے انسان دھوکا کھاجاتا ھے یا جن کی وجہ سے نوع بشر کو مشکلات کا سامنا هوتا ھے؟

آج دنیا بھر کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ھیں کہ آج ھمارے سامنے کوئی امام حاضر نھیں ھے ، جو ان میں اختلاف کا باعث هو مثلاً بعض لوگ اس کی بیعت کریں او ربعض اس کی بیعت سے انکار کردیں، اور اسی وجہ سے ایسا کوئی جھگڑا نھیں ھے جس سے انسان ڈرے یا اس سلسلہ میں کچھ کہنے والا کسی سے خوف کھاجائے۔

 شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا هو:

”جب باتیں کچھ اس طرح ھیں تو اس گفتگو ، بحث او رجد جہدکا کیا فائدہ“؟



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 next