فدک پر ابوبکر کا قبضہ



رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت اور خلافت پر ابوبکر کے قبضہ کرنے کے بعد ابوبکر نے فدک بھی حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) سے واپس لے لیا اور حکومت کے بادشاہ کے عنوان سے اپنے اختیار میں لے لیا ۔ جب حضرت فاطمہ زہرا (علیہ السلام) نے اپنی زمین کا مطالبہ کیا اور کہا : یہ باغ ، پیغمبر اکرم(ص) نے مجھے ہدیہ کیا ہے تو ابوبکر نے جواب میں آپ سے گواہ اور دلیل طلب کی تاکہ حضرت فاطمہ ثابت کریں کہ یہ ان کی ملکیت ہے ۔

اگر چہ اسلام کی نظر میں جب بھی کوئی چیز کسی کے قبضہ میں ہو تو اس سے دلیل اور گواہی طلب نہیں کرتے اور فقط قبضہ میں ہونا اس کے مالک ہونے کی دلیل ہے ، بلکہ جو کوئی اس کے برخلاف دعوی کرے تو اس کو دلیل اور گواہی ثابت کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ مدعی ہے ۔ فدک حضرت فاطمہ زہرا علیہ السلام کے قبضہ میں تھا اس کی آیت ''و آت ذالقربی حقہ'' میں ''ایتا'' ہے اورروایات میں لفظ ''اعطائ''و ''اقطاع'' ہے ۔

ان باتوں کے باوجود حضرت فاطمہ زہرا (علیہ السلام) نے اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے دلیل قائم کی ، علی (علیہ السلام) اور ام ایمن نے گواہی دی کہ فدک حضرت زہرا(س) کی ملکیت ہے ،لیکن ابوبکر نے جواب دیا کہ ایک مرد اور ایک عورت کی کواہی کافی نہیں ہے بلکہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں ۔

اگر چہ حضرت زہرا (علیہ السلام) اس طرف متوجہ تھیں لیکن اس متعلق اختلاف قضاوت کے لحاظ سے نہیں تھا کیونکہ اس متعلق ابوبکر قاضی بھی تھا اور مقدمہ کی دوسری فرد بھی تھا ۔ اگر حقیقی قضاوت اور فیصلہ ہوتا تو قاضی تیسرے شخص کو ہونا چاہئے تھا ،اس بناء پر ایک شاہد کافی تھا جو مدعی کی بات کی تصدیق کرتا اور معاملہ ختم ہوجاتا ۔

اس کے باوجود حضرت زہرا (علیہ السلام) دوسری مرتبہ حضرت علی (ع) ام ایمن ، اسماء بنت عمیس اور حسن و حسین کو شاہد کے طور پر لے گئیں، لیکن پھر بھی اس نے قبول نہیں کیا اور اس کی دلیل یہ دی کہ حضرت علی (ع) ، حضرت فاطمہ (س) کے شوہر ہیں اور حسن و حسین ان کے بیٹے ہیں اور وہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کا ساتھ دیں گے اور ان کے فائدہ میں گواہی دیں گے ۔

اسماء بنت عمیس کی گواہی اس لئے قابل قبول نہیں تھی کہ وہ جعفر بن ابی طالب کی بیوی تھیں ا ور بنی ہاشم کے حق میں گواہی دیتیں، ام ایمن کی گواہی اس لئے قابل قبول نہیں تھی کہ وہ ایک غیر عرب تھیں اور بات کو صحیح طرح بیان نہیں کرسکتی تھیں ۔

اب یہ سوال کرنا چاہئے کہ فاطمہ ، علی ،حسن اور حسین (علیہم السلام) سورہ احزاب کی ٣٣ ویں آیت اور آپ کی شان میں جو روایتیں نازل ہوئی ہیں ، ان روایات کی بنیاد پر ہر طرح کے گناہ سے دور ہیں لہذا کیا ان کے اقوال قابل قبول نہیں ہیں؟ سورہ احزاب کی ٣٣ ویں آیت فرماتی ہے : ''ِنَّما یُریدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہیراً'' ۔  بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہم السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

اب ابوبکر کس طرح ان کی بات کو قبول نہیں کرتا ؟تو یہ وہی بات ہے جس کو ابن ابی الحدید نے ''علی بن فارقی'' سے نقل کی ہے ۔

اور یہ بات کہ ''اسماء بنت عمیس '' جعفر کی بیوی تھیںلہذا وہ بنی ہاشم کے حق میں گواہی دیتیں اس لئے ان کی گواہی قابل قبو ل نہیں تھی ،یہ بہت ہی تعجب آور بات ہے اور اس کا جواب بھی واضح ہے کیونکہ قضاوت میں یہ شرط نہیں ہے کہ انسان کا دشمن گواہی دے بلکہ شرط یہ ہے کہ شاہد عادل ہو ۔ اس کے علاوہ کیا پیغمبر اکرم(ص) نے گواہی نہیں دی کہ ''اسماء '' اہل بہشت ہیں ؟

کیا اسماء کی عدالت کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کا فرمان کافی نہیں ہے ؟۔



1 next