رسول اکرم(ص) سے حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی محبت



   صحیح بخاری میں روایت هے:

۱۔,,۔عن ابن مسعود؛ قال بینما رسول الله(ص)  یصلی عند البیت ،وابو جھل واصحاب لہ جلوس و قد نحرت جزوربالامس، فقال ابوجھل: ایکم یقوم  الی سلا جزور بنی فلان فیاٴخذہ فیضعہ فی کتفی محمد(ص) اذا سجد؟فانبعث اشقی القوم فاخذہ، فلماسجد النبی،(ص) وضعہ بین کتفیہ ،قال: فاستضحکو ا وجعل بعضھم یمیل علی بعض، وانا قائم ،انظر لوکانت لی منعة طرحتہ عن ظھررسول الله، (ص) والنبی(ص) ساجد ما یرفع راسہ ،حتی انطلق انسان، فاخبر فاطمة (س) فجائت وھی جویریة، فطرحتہ عنہ ،ثم اقبلت علیھم تشمتھم ،فلما قضی النبی(ص) صلاتہ، رفع صوتہ، ثم دعا علیھم “[1]

ترجمہ:۔۔امام بخاری اور مسلم نے عبد الله ابن مسعود سے نقل کیا ھے: ایک مرتبہ رسول اسلام(ص) خانہ ٴ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رھے تھے، اور ابوجھل اور اس کے( نمک خوار) ساتھی بھی وھیں موجود تھے، ابوجھل نے اپنے ساتھیوں سے کھا : کون ھے جو فلاں شخص کے اونٹ کی اجھڑی کو لاکر سجدے کی حالت میںاس مرد (رسول(ص) ) کی پشت پر ڈال دے؟ ان میں سے ایک بد بخت شخص کھڑا هوا ،اور اس نے غلاظت کو اٹھا کر جب آنحضرت (ص) سجدہ میں گئے تو آپ کی پشت پر ڈال دیا ، ابو جھل اور اس کے ساتھی یہ منظر دیکھ کر کھل کھلاکر اتنی زور سے ہنسنے لگے کہ خوشی کہ وجہ سے ایک دوسرے پر گرے جارھے تھے،ابن مسعود کہتے ھیں : میں اس واقعہ کو دیکھ رھا تھا ،اور یہ سوچ رھا تھا کہ کاش میں اتناطاقتو ر هوتا کہ اس غلاظت کو رسول (ص) کے اوپر سے اٹھاکرپھینک دیتا ،تاکہ رسول(ص) کو اذیت نہ هوتی ، ابھی رسول سجدہ ھی میں تھے کہ کسی نے فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کو اس کی اطلاع دے دی ،تو آپ آئیں اور آپ ابھی بہت چھوٹی تھیں، بھرحا ل آپ نے اس غلاظت کو صاف کیا اور ان لوگوں کو برا بھلا کھا، جب رسول(ص) نماز سے فارغ هوئے تو بلند آواز سے ان لوگوں کے لئے بد دعا کی۔

۲۔ ,,۔عن ابن ابی حازم عن ابیہ؛ انہ سمع سھل بن سعد ؛یسئل عن جرح رسول لله ،یوم احد: فقال: جرح وجہ رسول الله(ص) وکسرت رباعیتہ، وھشمت البیضة علی راسہ، فکانت فاطمة ( س) بنت رسول الله(ص) تغسل الدم، وکان علی بن ابی طالب یسکب علیھا بالمجن، فلما راٴت فاطمة ( س) ان الماء لا یزید الدم الا کثرة، اخذت قطعة حصیر، فاحرقتہ حتی صاررماداً ،ثم الصقتہ بالجرح، فاستمسک الدم۔ “[2]

 ترجمہ:۔۔ امام مسلم نے ابن ابو حازم سے اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ھے: سھل بن سعد سے پوچھا گیا : رسول(ص) کو روز جنگ احد کیسے زخم آئے ؟ تو سھل نے کھا ھاں اس دن آپ اس قدر مجروح  هوگئے تھے کہ آ پ کے دندان مبارک بھی شھید هوگئے تھے ،اور آپ کے سر کا خود بھی ٹوٹ گیا تھا (جس کی وجہ سے آپ کا سر بھی زخمی هوگیا )اور اس وقت رسول(ص) کی تیمار داری علی (ع) اور فاطمہ(س) کر رھے تھے، علی (ع)  اپنی سپر کے ذریعہ پانی ڈال رھے تھے، اور فاطمہ (بنت رسول (ص) )آپ کے چھرے کو دھو رھی تھیں ، جب فاطمہ (س) نے دیکھا کہ پانی سے خون نھیں بند هو تا تو آپ نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلاکر راکھ کیا، اور اس کو رسول(ص) کے زخم پر رکھ دیا  جس سے خون بند هوگیا  ۔ 

 



[1] صحیح بخاری جلد۱، کتاب الوضوء، باب(۶۹)” اذا اُلقِی علی َظھرِْ المصلی قذر“حدیث۶۹۔  صحیح مسلم جلد۳، کتاب الجھاد و السےر، باب(۳۹)”ما القی النبی(ص) من اذیٰ المشرکین“حدیث۱۷۹۴۔

[2] صحیح بخاری: جلد ۱، کتاب الوضوء، باب(۷۲)” غسل المرئة اباھا الدم عن وجہہ“ حدیث۲۴۰۔   جلد ۴، کتاب فضل الجھاد، باب ”لبس البیضة“ حدیث۲۷۵۴،  

مترجم:(صحیح بخاری جلد ۴، کتاب فضل الجھاد،باب” المجن ومن تیترس بترس الصحابة“ حدیث ۲۷۴۷،باب(۱۶۰)”دواء الجرح باحراق الحصیر“ حدیث۲۸۷۲،باب” ما اصاب النبی(ص) من الجراح یوم احد“ حدیث  ۳۸۴۷۔  جلد ۵،کتاب النکاح، باب(۱۲۲)”ولا یبدین زینتھن الا بعولتھن “حدیث ۴۹۵۰۔ کتاب الطب، باب” حرق الحصیر لیسدّ بہ الدم“ حدیث ۵۳۹۰  ۔)

 صحیح مسلم  جلد۵،  کتاب الجھاد، باب( ۳۷)”  غزوة احد“ حدیث ۱۷۹۰ ۔



1 next