قرآن و فقہ کا باہمی رابط



محمد باقر رضا

 

 قرآن اور فقہ دونوں ہي مذہبي اور ديني اصطلاحات ہيں۔ اور دونوں ہي کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ قرآن خدا کي طرف سے بھيجي ہوئي وہ کتاب ہے جو رہتي دنيا کے انسانوں کے لئے ايسا بہترين اور واحد نسخہ ہے جس کے ذريعہ انسان کمالات کي بلنديوں کو چھو سکتا ہے۔ فقہ در اصل دين فہمي کا دوسرا نام ہے۔ يعني انسان اپني زندگي ميں کيسے عمل کرے؟ کونسا کام انجام دے کونسا انجام نہ دے؟ کونسا کام بہتر ہے اور کونسا بہتر نہيں ہے؟ نيز کونسا کام ايسا ہے جس کے کرنے نہ کرنے سے کوئي فرق نہيں پڑتا اور جس کا کرنا اور نہ کرنا برابر ہے؟ ان سوالات کے جوابات علم فقہ ديتا ہے۔

 يہ دونوں اصطلاحيں شيعہ سني دونوں فرقوں کے درميان رائج ہيں۔ نہ يہ شيعہ سے مخصوص ہيں اور نہ ہي اہل سنت سے سالہا سال بلکہ صديوں سے يہ دونوں اصطلاحيں شيعہ سني علماء کے درميان چلي آرہي ہيں۔ اور ان کي تعريف ميں بھي دونوں کو کوئي اختلاف نہيں ہے۔ فقہ کي جو تعريف شيعہ کرتے ہيں اہل سنت بھي وہي تعريف کرتے ہيں۔ ان کے يہاں فقہ کي کوئي الگ تعريف نہيں ہے۔ اسي طرح قرآن سے جو شيعوں کي مراد ہے اہل سنت کا بھي قرآن سے وہي مقصود ہے۔ البتہ کچھ جزئي اور جنبي امور ميں اختلاف ضرور ہے تاہم يہ اختلاف ايسا نہيں کہ فقہ و قرآن سے مقصود ميں اختلاف پيدا کرسکے۔ مثلا : شيعہ علماء کے نزديک فقہ کے چار منابع ہيں۔ قرآن، سنت، اجماع اور عقل۔ ليکن اہلسنت کے يہاں قياس، استحسان اور ديگر امور بھي فقہ کے منابع ميں شمار ہوتے ہيں۔ اسي طرح فقہ کے منابع ميں شيعوں کے يہاں سنت سے مراد، نبي يا امام معصومٴ کا قول و فعل اور تقرير (کسي عمل کے مقابل سکوت) ہے۔ليکن اہل سنت کے يہاں ائمہٴ اس ميں شامل نہيں ہيں نيز صحابي (اور کچھ کے بقول تابعين بھي) اس ميں شامل ہيں۔

 يہ اختلافات اگر چہ اپني جگہ اہم اور بڑے اختلافات ہيں ليکن ايسے نہيں ہيں جن کي وجہ سے فقہ کي تعريف پر اثر پڑ سکے۔

 

قرآن کا قلمرو

اس ميں کوئي شک نہيں کہ قرآن ميں ہر خشک و تر موجود ہے اور کوئي ايسا حکم اور علم نہيں ہے کہ جوقرآن ميں موجود نہ ہوجيسا کہ قرآن نے کہا ہے(ولا رطب ولايابس الا في کتاب مبين) يعني کوئي خشک و تر ايسا نہيں جو کھلي ہوئي کتاب (قرآن) ميں موجود نہ ہو۔ ليکن اس کے باوجود يہ حقيقت ہے کہ ہر خشک وتر قرآن ميں صراحت کے ساتھ بيان نہيں ہوا ہے بلکہ کبھي اس کے لئے تاويل کي ضرورت پڑتي ہے کبھي تفسير کي۔ بعض جگہ روايات ميں قرآن کي ستر تہيں بتائي گئيں ہيں۔ در اصل يہي وجہ ہے کہ بشريت کو قرآن کے ساتھ معصوم کي تفسير اور ان کي توضيح کي ضرورت پڑي ورنہ قرآن ہي کافي ہوتا تو نہ نبي بھيجنے کي ضرورت ہوتي اور نہ ہي امام۔ البتہ يہ کہا جا سکتا ہے کہ (الا في کتاب مبين) يعني کتاب کے بيانات واضح اور صر يح ہيں اور يہ کھلي ہوئي کتاب ہے توپھر يہ کيسے کہا جاسکتا ہے کہ قرن ميں ہر خشک و تر صراحت کے ساتھ موجود نہيں ہے؟

 ليکن ذرا سا غور کرنے پر يہ بات واضح ہو سکتي ہے کہ قرآن کھلي ہوئي کتاب ضرور ہے ليکن سوال يہ پيدا ہوتاہے کہ کس کے لئے ؟ يعني قرآن کے تمام بيانات کس کے لئے واضح ہيں؟ يقينا ہر ايک کیلئے نہيں ہيں۔ اس کو خود کتاب کي مثال دے کر بھي اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگرکوئي کتاب کھلي ہوئي ہو تو ضروري نہيں ہے کہ ہر کوئي اس کے پڑھنے پر قادر ہو۔ بلکہ کتاب کو وہي پڑھ سکتا ہے جو کتاب کے سامنے ہو۔ يعني ايسے زاويہ پر ہو کہ مکمل کتاب اسے دکھائي دے سکے۔ ورنہ لاکھ کتاب کھلي ہو، اگر دمي اس سے دور يا ايسے زاويے ميں ہو کہ اسے کتاب کے صفحات نہ دکھائي دے سکيں يا درميان ميں کوئي ديوار يا پردہ حائل ہو تو وہ کتاب کو نہيں پڑھ سکتا۔ جب کہ کتاب کھلي ہوئي ہے۔

 بہرحال قرآن ميں علم تاريخ، جغرافيا، نجوم، طب اور ان کے علاوہ سيکڑوں علوم موجود ہيں جن ميں ايک علم دين بھي ہے۔ ليکن تمام علوم کے جزئيات قرآن ميں صراحتاً بيان نہيں کئے گئے ہيں۔

 لہٰذا اگر عمق اور باطن قرآن کو مد نظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ قرآن ہر خشک و تر کو اپنے احاطہ ميں لئے ہوئے ہے۔ اور وہ ہر چيز پر محيط ہے۔



1 2 3 next