تحریف قرآن کریم کے اسباب



آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (ره)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 فَبِمَا نَقضِھِم مِیثَاقَھُم لعنّٰھم وَ جَعَلنَا قُلُوبَھُم قٰسِیَۃ ًیُحَرِّفُونَ الکَلِمَ عَن مَوَاضِعِہ وَ نَسُوا حَظّاً مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ 1

 ہم نے کہا ہے کہ عاشورا کے واقعے میں تحریفیں ہوئی ہیں لفظی تحریفیں بھی اور معنوی تحریفیں بھی اور انہیں تحریفوں نے اس بڑی تاریخی سند اور اس بڑے تربیتی سرچشمے کوبے اثر یا کم اثر بنا دیا ہے بلکہ کبھی کبھی تو اس کا اثر الٹا بھی پڑ جاتا ہے لہذا ہم سب کا یہ ایک اہم اور عام فریضہ ہے کہ اس پاک سند سے ان تحریفوں کو دور کر دیں جنہوں نے اسے آلودہ کر دیا ہے۔ آج کی رات، میں تحریف کے اسباب کے متعلق گفتگو کروں گا اور اس کے بعد اس حادثے کی معنوی تحریفوں کے بارے میں گفتگو ہوگی۔

 

تحریف کے اسباب

یہ اسباب دو قسم کے ہیں: ایک قسم عام ہوتی ہے یعنی مجموعی طور پر ایسے اسباب موجود ہیں جو تاریخ میں تحریف کرتے ہیں ان کے لئے کربلا کے حادثے ہی کی تحریفیں نہیں مثلاًدشمنوں کے مقاصد بجاے خود ایک ایسا سبب ہیں جو حادثے میں تحریف کر ڈا لتے ہیں ۔ دشمن اپنی غرض پوری کرنے اور مقاصد حاصل کرنے کے لئے تاریخ میں تبدیلیاں کرتا ہے یا تاریخ کی غلط تشریح اور تفسیر کرتا ہے اور یہ مثالیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں ان کے بارے میں گفتگو کر نا نہیں چاہتا البتہ اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ حادثہ کربلا کی تحریف میں بھی ان اسباب کا دخل رہا ہے یعنی حسینی تحریک کی تحریف پر دشمن کمر بستہ ہو کر نکل آے اور جیسا کہ دنیا کا دستور ہے کہ دشمن پا کیزہ تحریکوں کے بارے میں گڑبڑ پیدا کرنے، اور اختلاف شروع کرنے کا الزام لگا تے ہیں۔ اموی حکومت نے بھی بہت کوشش کی کہ حسینی علیہ السلام تحریک کو اسی رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔

 چنانچہ پہلے ہی دن سے ایسے پرو پیگنڈے شروع ہوگئے۔ مسلم بن عقیل جیسے ہی کوفہ پہنچتے ہیں یزید اس حکم نامے میں جس کے مطا بق وہ ابن زیاد کو حاکم کوفہ مقرر کرتا ہے، لکھتا ہے: مسلم بن عقیل کوفہ پہنچ گئے ہیں اور ان کا مقصد مسلمانوں میں گڑ بڑ پھیلانا اور پھوٹ ڈالنا ہے ۔ تو وہاں پہنچ کر ان کو کچل ڈال۔ جس وقت مسلم گرفتار کرکے ابن زیاد کی حویلی میں لائے جاتے ہیں ابن زیاد مسلم علیہ السلام سے کہتا ہے۔اے عقیل کے بیٹے! تمھارے اس شہر میں آنے کا کیا سبب ہے؟ یہاں کے لوگ آرام اور اطمینان سے رہ رہے تھے۔ تم آئے تو تم نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ پھوٹ ڈالی اور گڑبڑ پھیلا دی۔ مسلم علیہ السلام نے بھی جراٴت سے جواب دیا:

 اول تو میں اس شہر میں خود نہیں آیا۔ اس شہر کے لوگوں نے مجھے بلایا۔ بہت سے خطوط لکھے اور وہ سب خطوط موجود ہیں۔ان میں انہوں نے لکھا ہے کہ تیرے باپ ”زیاد“ نے جتنے سال یہاں حکومت کی نیک لوگوں کو قتل کیا، بروں کو اچھوں پر مسلط کیا اور عوام پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے۔ ان لوگوں نے ہمیں اس لئے بلایا ہے کہ ہم ان کے لئے انصاف مہیّا کریں۔ ہم عدل قائم کرنے کے لئے آئے ہیں۔ چونکہ اموی حکومتوں نے معنوی تحریف کی تھی اس لئے اس قسم کے بہت سارے واقعات بیان کئے ہیں لیکن اسلامی تاریخ پر اس تحریف کا اثر نہیں پڑا ۔ آپ کو دنیا بھر میں کوئی ایک مؤرخ اور صاحب نظر بھی ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام نے نعوذ باللہ بے جا قیام کیا تھا ۔لوگوں میں پھوٹ ڈالنے اور ان کا ایکا ختم کرنے کے لئے آئے تھے۔ نہیں ! دشمن حادثہ ٴ کربلا میں کوئی تحریف نہ کر سکا ’ حادثہ ٴ کربلا میں جتنی تحریف ہوئی ہے بدقسمتی سے دوستوں ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔

 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 next