عصر امام صادق (ع) جنگ یا تعلیم ؟



اختر عباس جون

 

 امام صادق (ع) کا عہد دیگر ائمہ کی نسبت ایک استثنائی عہد تھا ۔ ایک طرف اموی حکومت کی سانسیں اکھڑرہی تھیں، تو دوسری طرف عباسی حکمران اپنے قدم جمانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور وہ بھی رضائے آل محمد کے نام پر جو کم سے کم اس بات کی علامت ضرور تھا کہ ظاہراً ہی سہی لیکن مختصر مدت کے لئے خاندان علم وہدایت پابندیوں اور سختیوں سے محفوظ ہے ۔

 حصول حکومت کی اس کشمکش میں ایک طرف عوام کو فکری آزادی نصیب ہوئی جو کسی معاشرہ کی استعداد اور صلاحیتوں کے نمایاں ہونے کا بہترین موقع ہوتا ہے لہذا علم ودانش کا وہ تخم جس کی کاشت دست نبوت سے ہوئی تھی جس کی آبیاری باب مدینة العلم نے کی تھی، علم و دانش کے جس شجر کو وارثان علم نے عہد جہالت و غفلت کی تیز زہریلی آندھیوں سے محفوظ رکھا تھا اب ثمر بارہونے کوتھا ۔

 دوسری طرف اسلامی قلمرو میں وسعت اور مسلمانوں کے دیگر متمدن اقوام سے ارتباط پیدا ہونے کے نتیجہ میں ان پر علم و دانش کے کچھ نئے افق کھلے، جس کے مثبت اور منفی اثرات سے مسلمان معاشرے محفوظ نہیں رہ سکے، یہ درست ہے کہ اس نتیجے میں مسلمان دیگر اقوام کے باطل عقائد اور بیجا خرافات سے متاثر ہوئے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں تحقیق اور جستجو کا جذبہ پیدا ہوا، نظریات اور افکار میں نسبتاً وقت اور گہرائی پیدا ہوئی، وقتی آزادی ملی تو ذہنوں میں دبے ہوئے سوالات ابھر کر سامنے آئے، علمی مشکلات وجود میں آئیں، جس کے لئے ایک ایسے علمی سرچشمہ کی ضرورت پیش آئی جو ان مشکلات کو حل کر سکے ۔

 

دوراستے

ان حالات میں امام صادق (ع) کے سامنے دو راستے تھے ۔ ایک یہ اپنے افراد کو جمع کرکے شمشیر بکف قیام کریں اور دونوں باطل قوتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے عدالت پر مبنی ایک الہی حکومت کو قائم کریں، اس صورت میں دو احتمال تھے، ایک یہ کہ مطلوبہ ہدف ہوجائے اور قیام عدل کی دیرینہ آرزو پوری ہوجائے ۔ دوسرا احتمال یہ تھا کہ حسب ضرورت قوت اور وفادار افراد کے نہ ہونے کی صورت میں آپ کے ساتھی درجہ شہادت پر فائز ہوتے ۔

 دوسرا راستہ یہ تھا کہ تلوار کو نیام میں رہنے دیں اور ایک ایسا علمی و تربیتی مرکز قائم کریں جس میں انسان سازی کا درس دیا جائے، علم و معرفت کے دریچے کھلیں، اسلام حقیقی کو تعارف کرایا جائے تا کہ امت مسلمہ روح اسلام سے آشنا ہوسکے ۔

 

انتخاب

امام (ع) نے مصلحت کو دیکھتے ہوئے راہ خون و شمشیر کو ترک کیا اور ایک ایسے علمی مرکز کو قائم کیا جس کے اثرات آج تک دنیائے علم پر باقی ہیں ۔ یہ بذات خود امام صادق (ع) کی امامت عملی کا ایک نمونہ ہے، امام (ع) نے اپنی الہی دید سے امت کے مرض کو تشخیص دے کر اس کے علاج کے لئے مناسب ترین قدم اٹھایا ۔

 ان حالات میں امام (ع) اگر تلوار اٹھاتے تو یہ احتمال ضرور تھا کہ وقتی طور پر بنی امیہ اور بنی عباس کے فتنے ختم ہوجاتے اور حکومت آپ کے ہاتھوں میں آجاتی لیکن سوال یہ ہے کہ آیا صرف حکومت حاصل کرلینے سے امت کی مشکلات حل ہوسکتی تھیں ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت یقیناً کسی مکتب کے نفاذ کے لئے بہت موثر ہے، لیکن کون سی حکومت ؟ آیا وہ حکومت جس کے ارکان ابو مسلم خراسانی اور ابو سلمہ جیسے افراد ہوں ۔

 حکومت ی انقلاب برپا کر آسان ہے لیکن اس کو باقی رکھنا مشکل ہے ۔ حکومت کی بقا کے لئے مخلص، معتبر اور تجربہ کار افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو امام (ع) کے پاس موجود نہیں تھے ۔ امام (ع) کس پر بھروسہ کرتے ؟ ابومسلم خراسانی پر جس کی اقتدار پرستی اور جاہ طلبی نے چھ لاکھ بے گناہوں کو اپنی گورنری کی بھینٹ چڑھادیا، جو طلحہ و زبیر سے کہیں زیادہ بدتر کردار ادا کرنے کے لئے امام (ع) کو قیام اور حکومت کی پیش کش کررہاتھا 1 یا ابوسلمہ پر جو اپنے اور حکومت کے درمیان فاصلے کو طے کرنے کے لئے فرزنداں علی (ع) میں سے کسی ایک فرد کو مہرابنانے کی کوشش کررہا تھا، خواہ وہ فرد کوئی بھی ہو عبداللہ بن حسن، عمر الاشرف بن زین العابدین (ع) یا امام صادق (ع) جیسا کہ اس کے ان خطوط سے ظاہر ہوتا ہے جو اس نےایک ہی وقت میں ایک مضمون کے ساتھ اس تین افراد کے نام لکھے ۔ 2



1 2 next