قرآن میں حضرت زہرا سلام الله علیہا کے فضائل



 

قرآن کریم میں حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شان میں بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم اس مقالہ میں اشارہ کررہے ہیں۔

 

1) سورہٴ دہر

شیعہ و سنی دنوں فرقوں کی کتابوں میں یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ حسنین علیہم السلام بیمار ہوئے ، پیغمبر اسلام ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ان کی حالت دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوئے ۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ اگر ان بچوں کی صحت کے لئے نذر مانی جائے!

 حضرت علی علیہ السلام نے بچوں کے صحت یاب ہونے پر تین روز روزہ رکھنے کی نذر مانی ، حضرت زہرا سلام الله علیہا اور گھر کی کنیز نے بھی یہی نذر کی۔

 حسنین علیہم السلام کے شفایاب ہونے پر نذر کو پورا کیا گیا ۔ حضرت علی علیہ السلام، حضرت زہرا سلام الله علیہا اور فضہ نے روزہ رکھا۔ حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں افطا رکے لئے کچھ نہ تھا ۔ حضرت کا ایک پڑوسی اون کا کاروبار کرتا تھا لوگ اس سے کچا مال لے جاتے اور اون تیار کرکے دیتے تھے اور اس کام کے بدلہ اپنے کام کی مزدروی حاصل کرتے تھے۔ حضرت بھی اس کے پاس گئے اوراس سے اس معاملہ پر کچھ جو حاصل کئے کہ جو کی قیمت کی برابر حضرت زہرا سلام الله علیہا اس کے لئے اون تیار کریں گی۔

 جو کو پیس کر افطار کے لئے کچھ روٹیاں تیار کی گئیں۔ افطار کا وقت قریب آیا اور اب حضرت علی علیہ السلام کے مسجد سے گھر پلٹنے کا انتظار ہونے لگا ۔ جب حضرت علی علیہ السلام گھر تشریف لائے تو دسترخوان بچھایا گیا ، تمام اہل بیت اور فضہ دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے، اس بابرکت دسترخوان پر فقط چار روٹیاں رکھی ہوئی تھیں ابھی کسی نے روٹی کی طرف ہاتھ بھی نہ بڑھایا تھا کہ کسی نے دروازہ پر آکر آواز دی اے اہل بیت نبوت آپ پر میرا سیلام ہو، میں ایک مسکین ہوں آپ جو کھا رہے ہیں اس میں سے مجھے بھی دیدیجئے خدا آپ کو جنت کے کھانوں سے سیر فرمائے۔ یہ سن کر دسترخوان پر رکھی ہوئی روٹیاں اٹھا کر سائل کے حوالہ کردی گئیں اور اہل بیت نے پانی سے افطار کیا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی حضرت زہرا سلام الله علیہا نے روٹیاں تیار کیں اور پہلے دن کی طرح ہی یتیم و اسیر کو دے کر پانی سے افطار کرکے بھوکے سو گئے۔اسی دوران جبرئیل امین اہل بیت کی شان میں سورہٴ دہر لے کر نازل ہوئے۔ جب تک قرآن باقی رہے گا اور اس کی تلاوت ہوتی رہے اور سورہٴ دہر کی آیتوں کو پڑھا جاتا رہے گا اہل بیت علیہم السلام کا یہ افتخار دنیا کے سامنے نمایاں ہوتا رہے گا۔

 

2) آیہٴ اجر رسالت

<قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربیٰ> یعنی اے پیغمبر! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قرابیداروں سے محبت کی جائے۔ اس مقالہ میں اب تک جو بیان کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اہل بیت پیغمبر (قربیٰ) کو ن ہیں؟ حضرت زہرا سلام الله علیہا کی شہادت کے واقعہ سے یہ پتہ چلے گا کہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کی وصیت اور اس آیت پر کس طرح عمل کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پر گمراہ لوگوں کو نقصان ہوا اور انھوں نے اس راستہ کو طے کیا جس سے پیغمبر اسلام کو اذیت پہونچی۔ یہ آیت وہ شاہد اور حجت ہے جس کے ذریعہ حضرت زہراسلام الله علیہااس وقت احتجاج کریں گی جب ظالموں کو سزا اور مظلوموں کو ان کا حق دینے کے لئے خالق کائنات کی عدالت برپا ہوگی۔ وہاں پر ظالم اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں گے۔

 

3) آیہٴ مباہلہ

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے الله کے پیغام کو پہونچایا اور انسانوں پر حجت کو تمام کیا۔ کچھ لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا اور حق کی مخالفت کرنے لگے۔ الله نے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے ساتھ مباہلہ کرو اور ان سے کہو کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں ، تم اپنی عورتوں کو لاؤ ہم اپنی عورتوں کو لائیں،تم اپنے نفسوں کو لاؤ ہم اپنے نفسوں کو لائیں اور مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر الله کی لعنت قرار دیں۔

 حق کو قبول نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ عیسائیوں کا بھی تھا۔ وہ مباہلہ کے لئے تیار ہوگئے اور اس کے لئے چوبیس ذی الحجہ کا دن معین ہوا ۔ جیسے جیسے مباہلہ کا وقت قریب آتا جا رہا تھا لوگوں کی بیچینیاں بڑھتی جارہی تھیں کہ دیکھیں اب پیغمبر اسلام کیا کریں گے؟



1 2 next