عصمت کی حقيقت



ھر صاحب عقل پر یہ بات واضح ھے کہ نبی چونکہ پیغامات الٰھی کولوگوں تک پهونچاتا ھے اور ان کے سامنے دینی احکامات پیش کرتا ھے لہٰذا اس کی باتوں پراس وقت یقین کیا جاسکتا ھے جب وہ صادق هو اور بھول چوک اور خطا وغلطی سے پاک هو، اور ھر طرح کی معصیت وگناہ سے دور هو ،نیز خدا کی مکمل طریقہ سے اطاعت کرتا هو،تاکہ (یقینی اور قطعی طور پر ) ان تمام چیزوں سے پاک ومنزہ هو جو اس کے اقوال، اعمال اور دیگر امور میں باعثِ شک بنتے هوں۔

چنانچہ اسی چیز کو علماء علم کلام”عصمت “ کہتے ھیں۔

اس بنا پر عصمت کے معنی ایک ایسی داخلی طاقت ھے جو نبی کو ترکِ طاعت، فعل معصیت اور بری باتوں سے روکتی ھے۔

انبیاء  (ع) کی عمومی زندگی کی معرفت کے بعد انسان اس نتیجہ پر پهونچ جاتا ھے کہ نبی کے لئے صاحب عصمت هونا ضروری ھے اور ھمارے لئے انبیاء کی عصمت پر یقین رکھنا واجب ھے، چنانچہ شیعہ حضرات انبیاء (ع) کی عصمت کی ضرورت پر زیادہ اصرار کرتے ھیں اور اسلامی فرقوں میں صرف ھمارا واحد مذھب ھے جو انبیاء (ع) کی عصمت کا قائل ھے چونکہ دوسرے اسلامی فرقے انبیاء (ع) کی عصمت مطلقہ کو ضروری نھیں سمجھتے، جبکہ فرقہٴ معتزلہ اگرچہ انبیاء (ع) کو گناہِ کبیرہ سے معصوم مانتاھے لیکن ان کے لئے گناہ صغیرہ کو جائز جانتا ھے البتہ ایسے گناہِ صغیرہ جو فقط ثواب کو کم کرتے ھیں لیکن باعث عذاب نھیں هوتے۔[1]

اور چونکہ مسئلہ واضح ھے لہٰذا اس میں زیادہ گفتگو اور دلیل کی کوئی ضرورت نھیں کیونکہ خود انسان کا وجدان اور دل اس بات کی گواھی دیتا ھے کہ وہ نبی جو خطا وغلطی کرتا هو اور معصیت وگناہ کا مرتکب هوتا هو اس صورت میں کوئی بھی انسان اس کی اطاعت وپیروی نھیںکرے گا اور نہ ھی اس کے قول وفعل او رامر ونھی کو قبول کرے گا۔

 قارئین کرام !   اس سلسلہ میں بہت سی کلامی کتابوں میں بغیر سوچے سمجھے لکھ دیا گیا ھے اور اس سلسلہ میں ان لوگوںکے وھم کی وجہ سے قرآن مجید کی وہ آیات ھیں جن کے ظاھر سے اس بات کااشارہ هوتا ھے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمگناہ اور معصیت کے مرتکب هوئے۔

لیکن جب ھم بحثِ نبوت اور نبی کی عظمت کا صحیح طریقہ سے جائزہ لینا چاھیں تو ھمیں اس طرح کی آیات کے ظاھر سے پرھیز کرتے هوئے ان کے اصل مقصد تک پهونچنا چاہئے یھاں تک کہ ھم پر حقیقت امر واضح هوجائے اور ھم شکوک وشبھات کا سدّ باب، مستحکم دلیل وبرھان اور فھم صحیح سے کردیں۔ (لہٰذا مناسب ھے کہ پھلے ھم ان آیات کو بیان کریں جن کے ذریعہ سے مخالفین عصمت نے استدلال کیا ھے اور پھر ان کا مکمل جواب پیش کریں۔)

پھلی آیت:

ارشاد خداوندعالم هوتا ھے:

<لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاٴَخَّرَ>[2]

جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ھے کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے گناہ کرنے پر واضح طور پر دلالت کرتی ھے (اگرچہ ان کی بخشش کا وعدہ کیا گیا ھے)



1 2 3 4 5 6 next