حضرت امام حسين (ع) کی عزاداری پر وهابيوں کے اعتراضات



جیسا کہ پھلے عرض کیاجاچکا اور محمد بن عبدالوھاب کی کتاب ” الرّد علی الرافضہ “ سے بیان ھوا کہ وھابی حضرات سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری اور مجالس بر پا کرنے کی وجہ سے شیعوں پر بدعت ،ضلالت وگمراھی کے فتوے لگاتے ھیں ، اور جس قدر بھی گالیاں او رنازیبا الفاظ ان کے بس میں ھے اور ان کی جاھل فکر میں سماتے ھےں ، شیعوں پر اسکی بوچھار کردیتے ھیں مجھے نھیں معلوم کہ جوشخص یہ کہتا ھے کہ امام حسین (ع) کی عزاداری نھیں کرناچاہئیے غم نھیں منانا چاہئے اور ان پر گریہ وبکا نھیںکرناچاہئے یا واقعہ عاشورا کی یاد تازہ نھیں کرنا چاہئے کیا ایسے شخص مین عزّت و شرافت ، غیرت و انسانیت اور عاطفت ومحبت جیسی چیزوں کی بو بھی پائی جاتی ھے یانھیں؟ وہ لوگ  جو سید الشھداء (ع) ( جنھوں نے اپنی تمام ھستی کو الله کی رضا او رخوشنودی کے لئے قربان کردیا اور اس راہ میں کسی چیز سے دریغ نہ کیا ) کی سوگواری او رعزاداری کو بدعت و ضلالت وگمراھی اور قبیح فعل کے عنوان سے موسوم کرتے ھیں ،کیا ایسے لوگ روز قیامت پر ایمان بھی رکھتے ھیں یانھیں ؟ یا شرافت و انسانیت ، دین اور دینداری سے کوئی تعلق یا وابستگی بھی رکھتے ھیں یا نھیں ؟ وہ امام جن کی مظلومانہ شھادت کی خبر رسالت مآب(ص) نے سنائی اور تمام ائمہ معصومین (ع) نے ان کی یاد اور ان کی تحریک اورقیام کے پیغام کو زندہ رکھنے کی انتھک کوشش کی، وہ امام جو رسولخدا(ص) کا پارہ تن نھایت عزیز اور جگر گوشہ تھا اور اھلسنت حضرات کی صحیح احادیث کے مطابق ” جوانان جنّت کا سیدوسردار“ کیا اسکی مظلومیت پر آنسوں بھانا مناسب اور اچھا نھیںھے ؟!کیا ان کی تحریک اور ایثار وفداکاری سے الھام لے کر ان کی راہ اور ان کے پیغام کو زندہ نھیں رکھنا چاہئے ؟ اور اس طرح سے آنے والی نسلوں کو درس دیا جا سکے اور ھمیشہ ظلم سے برسر پیکار ھونے کا درس نیز کفرو باطل پرستی کے خلاف مؤمنوں کو جدو جھد کا درس دیا جاسکے۔ھم یھاں پر تفصیلی بحث کرنے کا ارادہ نھیں رکھتے صرف صاحب الغدیر مرحوم علامہ امینی (رہ) کے بیان کو نقل کرنے پرھی اکتفاء کرتے ھیں تا کہ واضح ھو جائے کہ سید الشھداء کی سوگواری اور عزاداری نہ صرف یہ کہ بدعت نھیں بلکہ عبادتوں میں اھم عبادت اور دینی وظائف میں اھم ترین وظیفہ ھے ۔

سالانہ عزاداری

عظیم الشان کتاب الغدیر کے مصنف مرحوم علامہ امینی (رہ) کی دوسری تصنیف بنام ” راہ وروش پیغمبر(ص) مااست “ ( اصل کتاب کا فارسی ترجمہ ) میں مذکورہ عنوان کے ذیل میں امام حسین (ع) کی عزاداری کو بر پا کرنے کے متعلق یوںر قمطراز ھیں :

”شاید یہ کھا جاسکے کہ امیر و بادشاہ کی وفات اور ولادت کے موقعوں پر یادمنانا قومی اور دینی بڑی تحریکوں کی عید اور دنیا کے اجتماعی حادثات اور وہ اھم واقعات جو مختلف قوموں میں رونما ھوتے ھیں ( مھم تاریخی واقعات وحادثات کے گذرے ھوئے سالوں کے اعداد و شمار کو ملحوظ خاطر رکھتے  ھوئے ) اور ان کے سالگرہ کے موقع پر جشن و سرور کی محفل سجانا یا وفات کے موقع پر سوگواری و عزاداری برپا کرنا دیرینہ رسوم اور شعائر میں شمار ھوتا ھے جسکی بشری طبیعت اور اسکی شایستہ اور مناسب فکروں نے گذشتہ قوموں اور ملتوں نے بنیاد ڈالی اور زمان جاھلیت سے پھلے اور اسکے بعد بھی زمانہ حاضر تک ویسے ھی جاری اور ساری ھے ۔

یھود و نصاریٰ اور اسلا م سے پھلے عرب قوم کی بڑی عیدیں جنھیں تاریخ نے اپنے دامن میں مخفوظ رکھا،اور گویا یہ ایک انسانی انس و محبت چاہت و خواہش کی ایسی سنّت ھے جو محبت و عاطفت جیسے اسباب سے وجود میں آئی ھے، اور یہ ایسی شاخ وبرگ ھے جو احترام اقتدار اور حسن و سلوک کے ضوابط سے دنیا کے عظیم لوگ اور بے نظیر، نامور افراد و بزرگان امت سے پھوٹتے ھیں اور ان کا مقصد واقعات کو زندہ رکھنا اور ایسے افراد کو زندہ اور جاوید رکھنا ھے ، چونکہ اسمیں تاریخی اجتماعی اور سماجی فائدے پوشیدہ ھیں نیز آئندہ نسل کے لئے سالھا سال اخلاق کامل کے طور پر ثابت ھوسکیں، اور اسمیں کوئی شک نھیں جوان نسل کے لئے پند و نصیحت ، عبرت اور دستور العمل مفیداور مؤثر چیز ھے اور اسمیں وہ تجربات اور آزمائشیں ھیں جو قوموں کی بیداری کاسبب ھیں ،اور یہ ” کسی خاص گروہ یا کسی قوم و نسل سے مخصوص نھیں ، ھاں البتہ تاریخی ایام ،اھم حادثات اور ان ناگوار واقعات سے جو ان ایام میں رو نما ھوئے ھیں ، ایک طرح کی نورانیّت او ر سرور کسب کرلیتے ھیں کہ پورے سال میں یہ ایّام کرامت و عظمت کا نشان ھوجاتے ھیں اور ان حادثات اور واقعات کی خوبی اور بدی سے نیک نامی یا نحوست کسب کرکے ان حادثات کا رنگ اپنا لیتے ھیں۔

تاریخ نے ابھی تک کسی ایسے دن کا پتہ نھیں بتایا جو واقعہ کربلا (روز عاشورا) سے زیادہ درد ناک اور دلخراش دن ھو جس پر ھر شریف اور غیرتمند انسان لرز اٹھتا ھے۔

اس دردناک واقعہ کربلاوالے وہ عالی اور بلند درس دے گئے ھیں جو توحید اور عبادت کی درسگاھوں میں حکمت عملی کی انتھائی اور آخر ی منزلوں میں شمار ھوتے ھیں چنانچہ قیام عاشورا نے جو آزادی اور بلند ھمّتی نیز راہ خدا میں فداکاری اور جانبازی بے حد خوبصورت اور زیباترین تصویرپیش کی ھے وہ ایک کامل واضح اور روشن ترین نمونہ عمل ھے ،عاشورا تباھی اور مشکلات کو بر طرف کرنے نیز ان کی زھریلی جڑوں کو نابودکرنے کی طرف انسانیت کے صحیح راستوں میںسے ایک مثبت قدم ھے ۔

عاشورا رذائل اور پست چیزوں سے بیزار رھنے اور ان سے دور رھنے کی راہ میں ایک مثبت اورمؤثر قدم ھے ۔

عاشورا ظالموں کی شان و شوکت کو خاک میں ملانے کے لئے اور شرک ونفاق کے پرچم کو سرنگون اور نیست و نابود کرنے ، ظالموں کے ظلم و تجاوز سے نپٹنے اور تمام بشریت کو نفس کی اسیری سے رھائی اور آزادی کے لئے ایک محکم بنیادی اور مؤثر ذریعہ ھے ۔

توحید، سچائی اور حقیقت کاکلمہ انسان کے بلند مقام اور سعادت مند زندگی کے پھیلانے کے لئے عاشوراء ھی مثبت ترین عمل ھے :

”  وَتَمَّت کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدقاً وَ عَدلاً لاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ “



1 2 3 next