حديث غدير



حديث غدير

مقدمہ :

غدير کا نام تو ہم سبھي نے سنا  ہے، يہ جگہ، مکہ اورمدينہ کے درميان مکہ شہر سے تقريبا دوسو کلوميٹر کے فاصلے پر جحفہ [1] کے پاس واقع ہے ۔يہ ايک چوراہا ہے۔  قديم زمانہ ميں۔ مختلف سرزمينوں سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام حج سے واپس آتے وقت، يہاں پہونچ کرايک دوسرے سے جدا ہو جاتے تھے۔

شمالي سمت کا راستہ مدينہ کي طرف جاتا ہے ۔

جنبوبي سمت کا راستہ يمن کي طرف جاتا ہے ۔

مشرقي سمت کا راستہ عراق کي طرف جاتا ہے ۔

اور مغربي سمت کا راستہ مصر کي طرف جاتا ہے ۔

آج کل يہ سرزمين بھلے ہي متروک ہو چکي ہو ،مگر ايک دن يہي خطہ ّ  تاريخ اسلام کے ايک عظيم واقعہ کا گواہ تھا۔يہ واقعہ اٹھارہ ذي الحجہ سن  ۱۰ ھجري  کاہے، جس دن حضرت علي عليہ السلام، رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے جانشين کے منصب پر فائز ہوئے ۔

ماضي ميں تو خلفاء نے اپني سياست کے تحت ،تاريخ کے اس عظيم واقعہ کو مٹانے کي کوششيں کي ہي تھيں،مگر آج بھي کچھ متعصب افراد اس کو مٹانے يا کم رنگ کرنے کي کوشش ميں لگے ہوئے ہيں۔ ليکن يہ واقعہ تاريخ ،حديث اور ادب ميں اتنا رچ بس گيا ہے کہ اس کومٹانا يا چھپاناکسي کے بس کي بات نہيں ہے۔

آپ اس کتابچہ ميں غدير کے سلسلہ ميں، متحيرکر دينے والي سنديں اوردليليں پائيں گے  !  تو جس واقعہ کے لئے اتني زيادہ دليليں اور سند يں موجود  ہوں؛  وہ کسي طرح بھي عدم توجہ يا پردہ پوشي کا شکار نہيں ہوسکتا ۔

يہ منطقي تحليل اوراہل سنت کي کتابوں سے جمع کي گئي سنديں، اميد ہے کہ مسلمانوں کي مختلف جماعتوں کو ايک دوسرے کے قريب لانے کا ذريعہ بنيں گي۔ ماضي ميں  لوگ جن حقائق سے سادگي کے ساتھ گذر جاتے تھے، آج وہ سب کي توجہ کا مرکز بنيں گے اور خاص طور پر جوان نسل کو متاثر کريں گے ۔

حديث غدير :

حديث غدير امير المومنين حضرت علي عليہ السلام کي بلا فصل ولايت و خلافت کے لئے ايک روشن دليل ہے اور محققين اس حديث کو بہت زيادہ اہميت ديتے ہيں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next