حديث غدير



اس کے بعد پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بلندي سے نيچے تشريف لائے اور حضرت علي عليہ السلام سے فرماياکہ:” جاؤ خيمے ميں جاکر بيٹھو، تاکہ اسلام کي بزرگ شخصيتيں آپ کي بيعت کرتے ہوئے مبارکباد پيش کريں۔

سب سے پہلے شيخين (ابوبکر و عمر) نے حضرت علي عليہ السلام کو مبارکباد پيش کي اور ان کو اپنا مولا تسليم کيا ۔

حسان بن ثابت نے موقع سے فائدہ اٹھايا اور پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي اجازت سے ايک قصيدہ کہہ کر اس کوپڑھا ،يہاں پر اس قصيدے کے صرف دواہم اشعا ر بيان کررہے ہيں :

فقال لہ قم يا علي فانني

فاني رضيتک من بعدي اماما ً وہادياً

فمن کنت مولاہ فہٰذا وليہ

فکونو لہ اتباع صدق مواليا

يعني علي عليہ السلام سے فرمايا :” اٹھو ميں نے آپ کو اپني جانشيني اور اپنے بعد لوگوں کي امامت و راہنمائي کے لئے منتخب کرليا ۔ “

جس جس کا ميںمولا ہوں اس اس کے عليمولا ہيں۔

  تم ،کہ ان کو دل سے دوست رکھتے ہو ،بس ان کي پيروي کرو۔ [16]



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next