حديث غدير



فاني رضيتک من بعدي اماما ً وہادياً [20]

يعني پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے علي عليہ السلام سے فرمايا : اے علي ! اٹھو کہ ميں نے تم کو اپنے بعد امام وہادي کي شکل ميں منتخب کرليا ہے ۔

  اس شعر سے ظاہر ہے کہ شاعر نے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے استعمال کردہ  لفظ مولا کوامامت، پيشواي ،ہدايت اور امت کي رہبر کے علاوہ کسي دوسرے معني ميں استعمال نہيں کيا ہے ۔ اور يہ شاعر عرب کے فصيح و اہل لغت افرادميں شمار ہوتا ہے ۔اورصرف عرب کے اس عظيم شاعر حسان نے ہي اس لفظ مولا کو امامت کے معني ميں استعمال نہيں کياہے، بلکہ اس کے بعد آنے والے تمام اسلامي شعراء نے جو عرب کے مشہور شعراء وادباء تھے اور عربي زبان کے استاد شمار ہوتے تھے، انھوں نے بھي اس لفظ مولا سے وہي معني مراد لئے ہيں جو حسان نے مراد لئے تھے يعني امامت ۔

دوسري دليل :

حضرت امير عليہ السلام نے جو اشعار معاويہ کو لکھے ان ميں حديث غدير کے بارے ميں يہ فرماياکہ

واوجب لي ولايتہ عليکم          رسول اللہ يوم غدير خم [21]

يعني اللہ کے پيغمبر نے غديرکے دن ميري ولايت کو تمھارے اوپر واجب قرارديا ۔

امام سے بہتر کون شخص ہے، جو ہمارے لئے اس حديث کي تفسير کرسکے ؟اوربتائے کہ غدير کے دن اللہ کے پيغمبر نے ولايت کو کس معني ميں استعمال کياہے ؟کيا يہ تفسير يہ نہيں بتا رہي ہے کہ واقعہ غدير ميں موجود تمام افراد نے لفظ مولا سے امامت کے علاوہ کوئي دوسرامعني نہيں سمجھا ؟

تيسري دليل :

پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ” من کنت مولاہ  “ کہنے سے پہلے يہ سوال کيا کہ ”الست اوليٰ بکم من انفسکم؟“ کيا ميں تمھارے نفسوں پر تم سے زيادہ حق تصرف نہيں رکھتا ہوں ؟پيغمبر کے اس سوال ميں لفظ اوليٰ بنفس کا استعمال ہوا ہے۔ پہلے سب لوگوںسے اپني اولويت کا اقرار ليا اور اس کے بعد بلافصل ارشاد فرمايا:” من کنت مولاہ فہٰذا علي مولاہ “ يعني جس جس کا ميںمولا ہوں اس اس کے علي مولا ہيں۔ ان دو جملوں کوملانے کا ہدف کيا ہے؟کيا اس کے علاوہ بھي کوئي ہدف ہو سکتا ہے کہ بنص قرآن جو مقام پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے، وہي علي عليہ السلام کے لئے بھي ثابت کريں؟صرف اس فرق کے ساتھ کہ وہ پيغمبر ہيں اور علي عليہ السلام امام؛نتيجہ ميں حديث غدير کے يہ معني ہو جائيں گے کہ جس جس سے ميري اولويت کي نسبت ہے اس اس سے علي عليہ السلام کو بھي اولويت کي نسبت ہے ۔ [22]

اگر پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اس کے علاوہ اور کوئي ہدف ہوتا، تو لوگوں سے اپني اولويت کا اقرارلينے کي ضرورت نہيں تھي ۔يہ انصاف سے کتني دور ہوئ بات ہے کہ انسان پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اس پيغام کو نظرانداکردے اور تمام قرائن کي روشني ميں آنکھيں بند کرکے گذرجائے۔

چوتھي دليل :

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے کلام کے آغاز ميں لوگوں سے اسلام کے تين اہم اصول کا اقرارکرايا اور فرمايا ”الست تشہدون ان لا الٰہ الا اللہ وان محمد ا عبدہ ورسو لہ وان الجنة حق والنار حق ؟ يعني کيا تم گواہي ديتے ہو کہ اللہ کے علاوہ اورکوئي معبود نہيں ہے اور محمد اس کے عبد ورسول ہيں اور جنت و دوزخ حق ہيں؟يہ سب اقرارکرانے سے کيا ہدف تھا ؟کيااس کے علاوہ کوئي دوسرا ہدف تھا کہ وہ علي عليہ السلام کے لئے جس مقام و منزلت کو ثابت کرنا چاہتے تھے، اس کے لئے لوگوں کے ذہن کو آمادہ کر رہے تھے ، تاکہ وہ اچھي طرح سمجھ ليں کہ ولايت و خلافت کا اقرار دين کے ان تين اصول کي مانندہے، جن کے سب معتقد ہيں ؟اگرمولاسے دوست يامددگار مراد ليں تو ان جملوں کا آپسي ربط ختم ہو جائے گا اور کلام کي کوئي اہميت نہيں رہ جائے گي۔ کيا ايسا نہيں ہے ؟



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next