حديث غدير



پانچويں دليل :

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبے کے شروع ميں، اپني رحلت کے بارے ميں فرمايا کہ :” اني اوشک ان ادعيٰ فاجيب“يعني قريب ہے کہ ميں دعوت حق پر لبيک کہوں [23]   يہ جملہ اس بات کا عکاس ہے کہ پيغمبر اپنے بعد کے لئے کوئي انتظام کرنا چاہتے ہيں، تاکہ رحلت کے بعد پيدا ہونے والا خلا پر ہو سکے، اور جس سے يہ خلا پر ہو سکتا ہے وہ ايسے لائق وعالم جانشين کا تعين ہے جو رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي رحلت کے بعدتمام امور کي باگڈور اپنے ہاتھوں ميں سنبھال لے ۔اس کے علاوہ کوئي دوسر ي صورت نظر نہيں آتي ۔

جب بھي ہم ولايت کي تفسير خلافت کے علاوہ کسي دوسري چيز سے کريں گے تو پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے جملوںميں پايا جانے والا منطقي ربط ختم جائے گا، جبکہ وہ سب سے زيادہ فصيح و بليغ کلام کرنے والے ہيں۔ مسئلہ ولايت کے لئے اس سے زيادہ روشن  اور کيا ہو قرينہ ہو سکتا ہے۔

چھٹي دليل :

پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ” من کنت مولاہ  “ جملے کے بعد فرمايا کہ

 :” اللہ اکبر عليٰ اکمال الدين واتمام النعمت ورضي ربي برسالتي والولايت لعلي من بعدي“ اگر مولا سے دوستي يا مسلمانوں کي مدد مراد

  ہے  تو علي عليہ السلام کي دوستي ،مودت ومدد سے دين کس طرح کامل ہوگيا اور اس کي نعمتيں کس طرح پوري ہوگئيں ؟سب سے روشن يہ ہے کہ وہ کہتے ہيں کہ اللہ ميري رسالت اور ميرے بعد علي  کي ولايت سے راضي ہو گيا [24] کيايہ سب خلافت کے معني پر دليل نہيں ہے؟

ساتويں دليل :

اس سے بڑھ کر اور کيا دليل ہو سکتي ہے کہ شيخين(ابوبکر و عمر) و رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے حضرت کے منبر سے اترنے کے بعد علي عليہ السلام کو مبارکباد پيش کي اور مبارکبادي کايہ سلسلہ مغرب تک چلتا رہا ۔شخين وہ پہلے افراد تھے جنھوںنے امام کو ان الفاظ کے ساتھ مبارکباد دي ”ہنيئاً لک ياعلي بن ابي طالب اصبحت وامسيت مولاي وموليٰ کل مومن ومؤمنة“ [25] يعني اے علي بن ابي طالب آپ کو مبارک ہو کہ صبح  وشام  ميرے اور ہر مومن مرد و عورت کے مولا ہوگئے ۔

علي عليہ السلام نے اس دن ايسا کونسا مقام حاصل کيا تھا کہ اس مبارکبادي کے مستحق قرارپائے ؟کيامقام خلافت ،زعامت اور امت کي رہبري ،کہ جس کا اس دن تک رسمي طور پر اعلان نہيں ہوا تھا، اس مبارکبادي کي وجہ نہيں تھي؟محبت و دوستي تو کوئي نئي بات نہيں تھي ۔

آٹھويں دليل :

اگر اس سے حضرت علي عليہ السلام کي دوستي مراد تھي تو اس کے لئے تويہ ضروري

  نہيں تھا کہ  جھلسا دينے والي گرمي ميں اس مسئلہ کو بيان کيا جاتا۔ ايک لاکھ سے زيادہ افراد پر مشتمل قافلہ کو روکا جاتا اور تيز دھوپ ميں چٹيل ميدان کے تپتے ہوئے پتھروں پرلوگوں کو بيٹھا کرمفصل خطبہ بيان کياجاتا ۔

کيا قرآن نے تمام مومنين کو ايک دوسرے کا بھائي نہيں کہا ہے؟جيسا کہ ارشاد ہوتا ہے <انما المومنون اخوة> [26] مومنين آپس ميںايک دوسرے کے بھائي ہيں ۔کيا قرآن نے دوسري آيتوں ميں مومنين کو ايک دوسرے کے دوست کي شکل ميں نہيں پہچنوايا ہے؟ اور علي عليہ السلام بھي اسي مومن سماج کي ايک فرد تھے، لہٰذا کيا ان کي دوستي کے اعلان کي الگ سے کيا ضرورت تھي؟اور اگر يہ فرض بھي کرليا جائے کہ اس اعلان ميں دوستي ہي مد نظر تھي تو پھر اس کے لئے ناسازگار ماحول ميں ان سب انتظامات کي کيا ضرورت تھي؟ يہ کام تو مدينہ ميں بھي کيا جا سکتا تھا۔ يقينا کوئ بہت اہم مسئلہ درکار تھا جس کے لئے ان استثنائي مقدمات کي ضرورت پيش آئي ،کيونکہ اس طرح کے انتظامات پيغمبراسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زندگي ميں نہ کبھي پہلے ديکھے گئے اور نہ ہي اس واقعہ کے بعد نظر آئے ۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next