حديث غدير



  کا بھائي نہيں بنايا ۔پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا:” آپ دنيا و آخرت ميں ميرے بھائي ہيں “

اسي سے ملتا جلتا مضمون اہل سنت کي کتابوں ميں ۴۹ جگہوں پر ذکر ہوا ہے۔[29]

کيا حضرت علي عليہ السلام اور پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے درميا ن  بھائ کا رشتہ اس بات کي دليل نہيں ہے کہ وہ امت ميں سب سے افضل و اعليٰ ہيں؟ کيا افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کے پاس جانا چاہئے؟

نجات کا تنہا ذريعہ :

ابوذر نے خانہ کعبہ کے در کو پکڑ کر کہا کہ جو مجھے جانتا ہے، وہ تو جانتا ہي ہے اور جو نہيں جانتا وہ جان لے کہ ميں ابوذر ہوں، ميں نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمايا :

” مثل اہلبيتي فيکم مصل سفينة نوح، من رکبہا نجيٰ ومن تخلف عنہا غرق “

تمھارے درميان ميرے اہلبيت  کي مثال کشتي نوح جيسي ہے، جو اس پر سوار ہوا اس نے نجات پائ اور جس نے روگرداني کي  وہ ہلاک ہوا۔ [30]

جس دن توفان نوح نے زمين کو اپني گرفت ميں ليا تھا، اس دن نوح عليہ السلام کي کشتي کے علاوہ نجات کا کوئي دوسرا ذريعہ نہيں تھا ۔يہاںتک کہ وہ اونچا پہاڑبھي

 ،جس کي چوٹي پر نوح عليہ السلام کا بيٹا بيٹھا ہواتھا نجات نہ دے سکا۔

کيا پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ،ان کے بعد اہل بيت عليہم السلام کے دامن سے وابستہ ہونے کے علاوہ نجات کا کوئي دوسرا راستہ ہے؟


[1] يہ جگہ احرام کے ميقات کي ہے اور  ماضي ميں يہاں سے عراق،مصر اور مدينہ کے راستے جدا ہو جاتے تھے۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next