حديث غدير



دوسر صدي ، جس کو تابعان کا دور کہا گيا ہے اس ميں ۸۹/  افراد نے اس حديث کو نقل کيا ہے ۔

بعد کي صديوںميں بھي اہل سنت کے تين سو ساٹھ علماء نے اس حديث کو اپني کتابوں ميں بيان کيا ہے اورعلماء اہل سنت کي ايک بڑي تعداد نے اس حديث کي سند اور صحت کو صحيح تسليم کيا ہے ۔

اس گروہ نے صرف اس حديث کو بيان کرنے پر ہي اکتفاء نہيں کيا بلکہ اس حديث کي سند اور افاديت کے بارے ميں مستقل طور کتابيں بھي لکھي ہيں۔

عجيب بات تو يہ ہے کہ عالم اسلام کے سب سے بڑپ مورخ طبري نے ” الولايت في طرقِ حديث الغدير“ نامي کتاب لکھي اور اس حديث کو ۷۵ طريقوں سے پيغمبرصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل کيا ۔

ابن عقدہ کوفي نے اپنے رسالہ ولايت ميں اس حديث کو ۱۰۵   افرادسے نقل کيا ہے ۔

ابوبکر محمد بن عمر بغدادي جو کہ جمعاني کے نام سے مشہور ہے انھوں نے اس حديث کو ۲۵ طريقوں سے بيان کيا ہے ۔

اہل سنت کے مشہورعلماء اور حديث غدير :

احمد بن حنبل شيباني ،ابن حجر عسقلاني،جزري شافعي،ابوسعيد سجستاني،امير محمد يمني،نسائي،ابو الاعلاء ہمداني اور ابو العرفان حبان نے اس حديث کو بہت سي سندوں [14] کے ساتھ نقل کيا ہے۔

شيعہ علماء نے بھي اس تاريخي واقعہ کے بارے ميں بہت سي اہم کتابيں لکھيں ہيں اور اہل سنت کي مشہور کتابوں کا حوالہ ديا ہے۔ ان ميں سے جامع ترين کتاب ” الغدير“ ہے ،جو عالم اسلام کے مشہورمؤلف مرحوم علامہ امينيۺ کے قلم کا شاہکار ہے۔ (اس کتابچہ کو لکھنے کے لئے اس کتاب سے بہت زيادہ استفادہ کياگيا ہے (.

بہرحال پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے امير المومنين علي عليہ السلام کو اپناجانشين بنانے کے بعد فرمايا:” اے لوگو! ابھي ابھي جبرئيل امين يہ آيت لے کر نازل ہوئے <اليوم اکملت لکم دينکم واتممت عليکم نعمتي ورضيت لکم الاسلام ديناً> [15] آج ميں نے تمھارے دين کو کامل کرديا اور تم پر اپني نعمتوں کوبھي تمام کيا اور تمھارے لئے دين اسلام کو پسند کيا ۔

اس وقت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تکبير کہي اور فرمايا :” اللہ کاشکرادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے آئين اور نعمتوں کو پورا کيا اور ميرے بعد علي عليہ السلام کي وصايت و جانشيني سے خوشنود ہوا ۔



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next